صفدرآباد(نامہ نگار)مین بازارکارخانہ باز ا ر میں تجاوزار کی بھرمار،شہریوں کا پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ،دکانداروں کی اکثریت نے بازار کی جگہ کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنا سامان دکانو ں کے باہر ڈسپلے کرنا شروع کر دیا اور یہ پریکٹس ایک عرصے سے بڑی دھوم دھام سے جاری و ساری ہے۔لگتا ہے کہ تجاوزات کرنے والوں نے بازار کی جگہ کو اپنی جاگیر بنا لیا ہے ، سرکاری احکامت کھو کھاتے ڈالنے کا رواج شہریو ں میںبڑھ رہا ہے ، دکاندار تو ایک طرف ریڑھی والوں نے اودھم مچا رکھا ہے ،جہاں چاہیں ریڑھی کھڑی کر لیتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ جن دکانوں کے آگے وہ ریڑھی کھڑی کرتے ہوں دکانداروں کو مالی فائدہ پہنچتا ہو واللہ اعلم۔اسسٹنٹ کمشنر کا کام ہے کہ شہر کو ہر قسم کی تجاوزات سے پاک رکھے پیرا فورس ان کی معاونت کے لئے موجود ہے لیکن بات نہیںبن رہی ۔ایک شہری نے نمائندہ ڈیلی بزنس رپورٹ کو بتایا ہے کہ اس نے دیکھا کہ دکانداروں کا سامان دکانوں کے باہر پڑا ہے اور پیرا فورس خاموش ہے ۔ حالانکہ ان کا کام بازاروں کو صاف ستھرا تجاوزات سے کلئیر کروانا ہے ۔ اس کام تو ڈیوٹی دینا ہے ،کونسا اس ملازم نے ہروقت گھومنا ہے بازار میںاپنی ڈیوٹی احسن انداز میں ادا کر کے دفتر جا کر کھائے پیئے ،سرکاری ڈیوٹی کو قواعد و ضوابط کے تحت ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔مین بازار کو تجاوزات سے پاک کیا جائے یہ صفدرآباد کے شہریوں کا دیرینہ مطالبہ ہے جو کہ قانونی اور آئینی ہے۔کوئی بندہ بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا غیر سرکاری شخص قانون اس پر لاگو ہے۔




