سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی معاہدہ ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دریائی پانی کے تنازع کو ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک فراہم کیا، صدر آصف علی زرداری کا یہ موقف کہ سندھ طاس معاہدے کویکطرفہ طور پر غیر مؤثر نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کے اصولی اور قانونی موقف کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ پانی پاکستان کی معیشت’ زراعت’ صنعت اور عوامی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس معاملے پر کسی بھی قسم کی غیر ذمہ دارانہ یا یکطرفہ پیش رفت خطے کے امن واستحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو ہتھیار یا سیاسی دبائو کے ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے، پائیدار امن کے لیے تمام دیرینہ تنازعات بالخصوص جموں وکشمیر کے تنازع کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام اور ان کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا، پاکستان کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کی جانب سے مسلسل دہشتگردی کا سامنا ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ علاقائی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام اور ان کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا، پاکستان کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشگرد گروہوں کی جانب سے مسلسل دہشتگردی کا سامنا ہے۔ صدر مملکت نے یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں عالمی امن’ مکالمے کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی’ شہری آبادی میں اضافے اور ماحولیاتی تنزلی کے باعث بڑھتے ہوئے پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے، اس لیے آفات سے نمٹنے کی استعداد کو قومی ترقی کا لازمی جزو اور آئندہ نسلوں کے حوالے سے اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھنا ہو گا، عوام کی قوت کو سائنس’ ٹیکنالوجی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ یکجا کر کے ہم ایسا پاکستان تعمیر کر سکتے ہیں جو کل کی کسی غیر یقینی صورتحال کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہو۔ صدر آصف علی زرداری کا موقف اس حوالے سے اہم ہے کہ پاکستان اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی’ سفارتی اور سیاسی ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، پانی کا مسئلہ کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل سے وابستہ معاملہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور مسائل کو معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کریں۔ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک ایسی مثال ہے، جس نے طویل عرصے تک مشکل حالات میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ اس لیے کمزور کرنے کے بجائے اس کے تحت موجود طریقہ کار کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنے آبی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر مؤثر بنانے کی کوئی بھی کوشش خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔ عالمی برادری کو بھی اس اہم مسئلے کی حساسیت کا ادراک کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات اور قانون کے راستے پر قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ پانی زندگی ہے اور اس مسئلے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے باہمی تعاون’ قانون اور انصاف کے اصولوں کے تحت حل کرنا ہی دونوں ممالک اور پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔




