مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کیلئے عالمی برادری کا ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونا خوش آئند ہے۔ یہ خطہ مذہبی’ تاریخی’ ثقافتی اور معاشی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ جہاں امن واستحکام کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے ہیں۔ ایسے میں 8ممالک کا مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی حل پر اتفاق ایک مثبت پیش رفت اور امیدافزا سفارتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان’ ترکی’ سعودی عرب’ مصر’ فرانس’ جرمنی’ اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات’ سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام زیرالتوا تنازعات کا پائیدار حل اقوام متحدہ کا متعلقہ قراردادوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے آٹھ ملکی اجلاس میں وزرائے خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع’ اسرائیل فلسطین تنازع’ غزہ میں دو ریاستی حل کی ضرورت، سعودی عرب اور یمن کی حکومت پر حوثی ملیشیا کے حملوں اور خطے کی اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی سمیت متعدد اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور سعودی عرب کے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ مشرق وسطیٰ اور خطے میں امن واستحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں’ خصوصاً شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور جہاز رانی کی آزادی ناگزیر ہے۔ آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلارکاوٹ بحری آمدورفت فوری اور مکمل بحال کی جائے، سمندری راستوں میں رکاوٹیں عالمی سپلائی چین’ توانائی’ کھاد اور خوراک کی ترسیل کو متاثر کرتی ہیں۔ مشترکہ اعلامیے میں علاقائی معاملات پر قریبی مشاورت اور رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام کسی ایک ملک یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ مشترکہ عالمی کوششوں کا تقاضا ہے۔ آٹھ ممالک کا سفارتی حل پر اتفاق اس مشترکہ ذمہ داری کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اتفاق کو عملی اقدامات’ مسلسل مکالمے اور انسانی ہمدردی پر مبنی حکمت عملی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر سفارت کاری کو ترجیح دی جائے، اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری رہی اور عام شہریوں کے تحفظ کو بنیادی مقصد بنایا جائے تو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی منزل حاصل کرنے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ امن ہی وہ راستہ ہے جو خطے کے عوام کو تحفظ’ ترقی اور خوشحالی کی نئی امید دے سکتا ہے۔ 8 ممالک کا آپس میں اتفاق اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ دنیا جنگ وجدل سے تنگ آ چکی ہے۔ اب انسانیت امن کی متلاشی ہے۔ پوری دنیا کے ممالک کو امن کا درس دینا ہو گا تاکہ معاشی ترقی کا دور دورہ ہو اور لوگ سکھ چین سے اپنی زندگیاں بسر کر سکیں۔




