پاکستان اپنے قومی ترقیاتی ایجنڈے میں تعلیم اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کو مرکزی اہمیت دے کر ایک روشن اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ مستقبل کی جانب حوصلہ افزا قدم اٹھا رہا ہے۔ 25اکتوبر 2026 کو وزیراعظم کی کروم بک اسکیم کا آغاز اس عزم کا عکاس ہے کہ ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کو وہ وسائل، علم اور مواقع فراہم کیے جائیں جن کی مدد سے وہ تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی ہوئی دنیا میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں یہ اقدام پاکستان کے انسانی سرمائے میں ایک اہم سرمایہ کاری اور ملک کی تعلیمی ترقی میں ایک مثبت پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ آئندہ دو برسوں کے دوران ملک بھر کے سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس میں زیرِ تعلیم باصلاحیت طلبہ میں پانچ لاکھ کروم بکس تقسیم کی جائیں گی۔ ان جدید آلات کے ساتھ طلبہ کو انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس سے وہ ڈیجیٹل کتب خانوں، تعلیمی مواد اور معلومات کے وسیع ذخیرے تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور روایتی کلاس روم کی حدود سے آگے بڑھ کر اپنے علم میں اضافہ کر سکیں گے۔ یہ اقدام تعلیم کے حوالے سے حکومت کے دوراندیشانہ طرزِ فکر اور نئی نسل کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے لیے تیار کرنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔اس پروگرام کا ایک قابلِ تحسین پہلو میرٹ، صلاحیت اور محنت کو اہمیت دینا ہے۔ مستحق اور باصلاحیت طلبہ کے لیے ڈیجیٹل تعلیم کے مواقع بڑھا کر حکومت اس اصول کو تقویت دے رہی ہے کہ ہر قابل نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہییں۔ کسی طالب علم کے مستقبل کا تعین اس کے عزم، محنت اور قابلیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ یہ اقدام مزید پاکستانی نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے ضروری تعلیمی وسائل تک رسائی فراہم کرنے میں مدد دے گا۔کروم بک علم کی ایک وسیع دنیا کے دروازے کھول سکتی ہے۔ طلبہ ان آلات کے ذریعے آن لائن کورسز سے استفادہ، ڈیجیٹل کتابوں کا مطالعہ، تحقیقی کام، کمپیوٹر کی مہارتوں میں اضافہ اور جدید تعلیمی ٹیکنالوجی سے واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے گھر پر بھی تعلیم جاری رکھی جا سکتی ہے، جس سے طلبہ اسباق کو دوبارہ پڑھنے، اپنی دلچسپی کے موضوعات پر معلومات حاصل کرنے اور خود سیکھنے کی عادت پیدا کرنے کے قابل ہوں گے۔ ایسے مواقع ایک باخبر، پراعتماد اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ نسل کی تربیت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جو پاکستان کی ترقی میں موثر کردار ادا کرے گی۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان کے مطابق، ایک مائی فائی (MiFi) انٹرنیٹ کنکشن سے مزید پانچ بچے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں کی ممکنہ تعداد 25 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ تصور ڈیجیٹل رسائی کی وسیع تر سماجی اہمیت اور بڑی تعداد میں نوجوانوں تک تعلیمی وسائل پہنچانے کے امکانات کو اجاگر کرتا ہے۔یہ پروگرام پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومتوں، خصوصا نواز شریف کی قیادت میں تعلیم کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کے تسلسل کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے یاد دلایا کہ ماضی کے پروگراموں کے تحت چھ لاکھ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جا چکے ہیں۔ نئی کروم بک اسکیم اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دو برسوں میں پانچ لاکھ طلبہ تک رسائی کا ہدف رکھتی ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی ترقی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر کے تجربات نے ڈیجیٹل تعلیم کی اہمیت کو مزید واضح کیا۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران آن لائن تعلیمی وسائل نے دنیا کے مختلف حصوں میں طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد دی۔ اس تجربے سے ثابت ہوا کہ ٹیکنالوجی تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور معلومات تک رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو ڈیجیٹل دنیا سے منسلک کرکے کروم بک اسکیم پاکستان کے نوجوانوں کو مستقبل کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے لیے تیار کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔اس پروگرام میں دینی مدارس کے طلبہ کو شامل کرنا بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ ایک ایسی جامع سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت طلبہ کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علم سید شمس رضا اور گلگت بلتستان کی خاتون عالمہ مہک صابر کی تقریب میں شرکت نے اس موقع کو مزید اہم بنا دیا۔ ان کی موجودگی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مختلف علاقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے پرعزم نوجوان پاکستان کے مستقبل میں بامعنی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی معاونت بھی قابلِ تحسین ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کروم بک اسکیم میں تعاون پر ٹی ٹی کیئر فائونڈیشن کے چیئرمین راشد منہاس کا شکریہ ادا کیا۔ فائونڈیشن کا تعاون اس بات کی مثال ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اور فلاحی ادارے قومی ترقی میں تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی معاونت نئی نسل کو بااختیار بنانے اور پاکستان کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔پاکستان میں تعلیمی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے مقامی سطح پر آلات کی تیاری اور اسمبلنگ کی صلاحیت بڑھانے کی کوششیں بھی اہم ہیں۔ 4 نومبر 2025 کو ہری پور میں نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن میں کروم بک اسمبلنگ کی سہولت کا افتتاح کیا گیا، جس میں گوگل اور پاکستانی ٹیکنالوجی شراکت داروں، بشمول ٹیک ویلی، نے شرکت کی۔ یہ پیش رفت پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل تعلیمی آلات کے وسیع تر استعمال کو فروغ دینے کا ایک حوصلہ افزا موقع فراہم کرتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی کروم بک اسکیم پاکستان کے نوجوانوں کی امنگوں میں ایک بامعنی سرمایہ کاری ہے۔ اس کی اہمیت صرف آلات کی تقسیم تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد طلبہ کو علم سے جوڑنا، ان کے افق کو وسیع کرنا اور انہیں ایسی دنیا میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے جس کی تشکیل میں ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔پانچ لاکھ کروم بکس دراصل سیکھنے، آگے بڑھنے اور بڑے خواب دیکھنے کے پانچ لاکھ مواقع کی علامت ہیں۔ نوجوان ذہنوں پر آج سرمایہ کاری کرکے پاکستان ایک زیادہ خوشحال، باعلم اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار کل کی بنیاد مضبوط کر رہا ہے۔




