انتخابی عمل کے دورانAIکا غلط استعمال روکنے کیلئے ضابطہ اخلاق میں ترمیم

اسلام آباد ( بیورو چیف)الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے دوران مصنوعی ذہانت(اے آئی ) کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور مبصرین کیلئے 2023میں جاری ضابطہ اخلاق میں ترمیم کا مسودہ جاری کردیا ہے جس میں12ترامیم تجاویز کی گئی ہے،جس پر 20 نومبر پر تجاویز مانگی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق میڈیا کے لئے ضابطہ اخلاق میں 5ترمیم تجویز کی گئی ہیں جن کے مطابق میڈیا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ مواد نشر،اشاعت یا ریلیز کے وقت ظاہر کرنا لازم ہوگا کہ یہ مواد اے آئی سے تیار کردہ ہے، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کے رہنما، امیدوار ، الیکشن اہلکار، عدلیہ یا مسلح افواج کے ارکان اور دیگر ریاستی عہدیداروں کی مصنوعی شبیہ،آواز یا بیان تخلیق کرنا جو کہ جھوٹا،تضحیک یا ہتک آمیز ہو، کی سختی سے ممانعت ہوگی۔میڈیا ہائوسز انتخابات سے متعلق مواد کی تیاری، ترجمہ، اینکرنگ یا تجزیہ کے لئے مصنوعی ذہانت کے آلات مشروط استعمال کرسکیں گے کہ وہ اپنے سامعین کے سامنے اس کا استعمال ظاہر کریں اور مواد کی صداقت اور درستگی کے خود ذمہ دارہوں گے۔پیمرا، سوشل میڈیا پروٹیکشن ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرایم انوسٹی گیشن ایجنسی میڈیا کی غیر ظاہر شدہ یا غیر لیبل شدہ اے آئی سے تیار کردہ مواد کی نگرانی کریں گی اور ضابطہ اخلاق کے عدم تعمیل کی صورت میں مناسب کارروائی اور الیکشن کمیشن کو رپورٹ کریں گی۔ترمیمی مسودہ کے مطابق میڈیا ہاوسز اپنے پلیٹ فارم سے گمراہ کن یا غیر ظاہر شدہ مواد ریگولیٹری باڈی یا الیکشن کمیشن کی ہدایت ہر فوری ہٹائیں گے یا اس میں درست طریقے سے دوبارہ لیبل کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں