شہری زندگی میں صفائی ستھرائی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ صاف ستھرا ماحول نہ صرف صحت مند معاشرے کی علامت ہوتا ہے بلکہ اس سے شہریوں کے معیار زندگی’ شہروں کی خوبصورتی اور مجموعی معاشرتی ترقی کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور کوڑا کرکٹ کی مناسب تلفی کے لیے اقدامات یقینا اہمیت کے حامل ہیں، تاہم اس سلسلے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ جب شہریوں پر کوڑا ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے تو اس کے بدلے انہیں صفائی ستھرائی کی کون سی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ صفائی کے نظام کو مؤثر’ شفاف اور قابل اطمینان بنانا بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو اس اقدام کے عملی فوائد بھی حاصل ہو سکیں۔ مہنگائی’ بیروزگاری’ یوٹیلیٹی بلوں اور مختلف ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے پنجاب کے عوام پر کوڑا ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں بعض دکانداروں کے ماہانہ بجلی کے بلوں سے بھی زیادہ انہیں کوڑا ٹیکس لگا دیا گیا جس پر دکانداران سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ کوڑا ٹیکس عائد کرنے کے باوجود صفائی ستھرائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کچھ عرصہ قبل شہری اور دیہی علاقوں میں گھروں’ دکانوں اور کمرشل پلازوں پر کوڑا ٹیکس عائد کیا گیا۔ شروع شروع میں ستھرا پنجاب اتھارٹی فیصل آباد کے ذمہ داران نے اپنے طور پر کوڑا ٹیکس کے بلز بھجوائے اور اس کی کولیکشن پنجاب بینک کے ذریعے کروائی لیکن دو’ تین ماہ بعد یہ سلسلہ رک گیا، اب پنجاب حکومت کے احکامات پر ستھرا پنجاب اتھارٹی کا کوڑا ٹیکس ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے وصول کرنے کا پروگرام بنایا گیا اور اسی ڈیپارٹمنٹ کی وساطت سے گھروں’ دکانوں اور پلازوں کے مالکان کو 6،6 ماہ کا کوڑا ٹیکس جمع کروانے کے بلز بھجوا دیئے گئے ہیں۔ پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں یہ کوڑا ٹیکس وصول عائد کیا گیا ہے۔ رہائشی مکانوں (پانچ مرلہ تک) کو فی 100 روپے کے حساب سے کوڑا ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ 7 مرلہ’ 10 مرلہ’ 1کنال اور اس سے زائد کے گھروں کے کوڑا ٹیکس کی ریشو مختلف ہے، عام دکاندار کو 3ہزار روپے ماہانہ کوڑا ٹیکس لگایا گیا ہے اور فیصل آباد کے کئی علاقوں میں دکانداروں کو 6ماہ یکشمت کوڑا ٹیکس (یعنی جولائی تا اگست 2026ئ) کل 18ہزار روپے جمع کروانے کے بل بھجوا دیئے گئے ہیں۔ دکانداران سراپا احتجاج ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر وبیشتر دکانداروں کا ماہانہ بجلی بل 3ہزار روپے سے بھی کہیں کم ہے مگر انہیں کوڑا ٹیکس 3ہزار روپے فکس کر دیا گیا ہے۔ دوسری جناب خاکروبوں کا صفائی ستھرائی کے بعد ”جگا ٹیکس” وصول کرنا عام ہے اور جو کوئی ان کی ہر ہفتے اس زمرے میں خدمت نہ کرے ان کے گھروں’ دفاتر اور پلازے سے کوڑا کرکٹ نہیں اٹھایا جاتا اور وہاں گندگی کے ڈھیر لگے نظر آتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ خاکروبوں کی ہر ہفتہ خدمت کرنے والوں کو پنجاب حکومت کا عائد کردہ ”کوڑا ٹیکس” بھی دینا پڑے گا اور اس صورتحال نے لوگوں کو ”دہری مشکل” میں مبتلا کر دیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں عوام پر کوڑا کرکٹ ٹیکس کا جو بوجھ ڈالا ہے وہ فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں بعض دکانداروں کے ماہانہ بجلی کے بلوں سے بھی زیادہ ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام پہلے ہی دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں کوڑا ٹیکس لگانا عوام پر سراسر ظلم اور ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے شہری’ دیہی اور دکانداروں نے اس ظالمانہ ٹیکس کو فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ”صاف ستھرا پنجاب” اسی وقت ممکن ہے جب حکومت’ متعلقہ ادارے اور شہری مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ کوڑا ٹیکس عائد کئے بغیر بھی صفائی ستھرائی کا نظام بہتر بنایا جا سکتا ہے، اصل بات توجہ دینے کی ہے۔ امید ہے کہ پنجاب حکومت کوڑا ٹیکس ختم کر دے گی اور صفائی ستھرائی کے ذمہ داروں کو اپنا کام احسن طریقہ سے سرانجام دینے کا پابند بنایا جائے گا اور یقینی طور پر اس سے صفائی ستھرائی کا نظام بہتر ہو جائیگا۔




