دیہی خواتین کی ترقی کیلئے قابل تحسین اقدامات (اداریہ)

دیہی خواتین کسی بھی معاشرے کی معاشی، سماجی اورخاندانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں خواتین زراعت، مویشی پالنے، دست کاری ، گھریلو صنعتوں اور دیگر معاشی سرگرمیوں میں نمایاں حصہ لیتی ہیں ، تاہم ان کی محنت کو اکثر مناسب معاوضہ ، جدید تربیت اور منڈیوں تک رسائی نہیں مل پاتی۔ دیہی خواتین کیلئے حکومت کا مختلف شعبوں میں ٹریننگ دینا احسن اقدام ہے۔ ملکی ترقی میں صرف شہری خواتین ہی نہیں بلکہ دیہی خواتین بھی برابر کی شریک ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے دیہی خواتین کو مارکیٹ بیسڈ ٹریننگ فراہم کر کے با وقار روزگار کے قابل بنانے کا تصور ایک اہم اور تعمیری اقدام ہے،جو خواتین کی معاشی، خود مختاری، خاندانی خوش حالی اور دیہی معیشت کے استحکام میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ خواتین کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنر سکھا کر ٹیکسٹائل انڈسٹری میں روزگار بھی دیا جائے گا۔ دیہی خواتین کیلئے ٹیکسٹائل ٹریننگ کیلئے ”شی تھریڈ” پروگرام کامیابی سے جاری ہے۔ جس کے تحت1150دیہی خواتین ٹیکسٹائل ٹریننگ مکمل کر کے ٹریننگ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ جون تک2500دیہی خواتین کی ٹیکسٹائل ٹریننگ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گائوں کی خواتین کو ماہانہ15ہزار روپے وظیفہ بھی ملے گا۔ ٹریننگ کی تکمیل کے بعد ٹیکسٹائل انڈسٹری میں روزگار بھی فراہم کیا جائے گا۔ دیہی خواتین کو انڈسٹریل سلائی مشین آپریٹر ایپرل سپروائزر ٹریننگ دی جائے گی۔ لاہورکے قریب ملتان روڈ پر واقع شاہکام انڈسٹری میں ”شی تھریڈ” پروگرام کی ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ 3ماہ کی ٹریننگ کورس میں کلاس روم، تدریس کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل ٹریننگ بھی کرائی جائے گی۔18سے45سالہ خواتین کے پاس پنجاب کا رہائشی/ڈومیسائل ہونا ضروری ہے۔ رجسٹریشن کیلئے میٹرک کی اہلیت مقرر کی گئی ہے۔ دیہی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے فوائد انفرادی خاندانوں سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں ۔ جب خواتین اپنی آمدن میں اضافہ کرتی ہیں تو بچوں کی تعلیم، صحت ، خوراک اور گھریلو ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مقامی سطح پر چھوٹے کاروبار فروغ پاتے ہیں، نئی ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور غربت میں کمی کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اس طرح خواتین کی فنی تربیت سماجی ترقی کیلئے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں دیہی خواتین کی تربیت اور روزگار کے پروگراموں کو مربوط ، نتیجہ خیز اور دیرپا بنیادوں پر آگے بڑھا یا جائے۔ تربیت کے ساتھ سرمایہ، آلات، کاروباری رہنمائی اور منڈی تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ خواتین اپنی صلاحیتوں کو عملی کامیابی میں تبدیل کر سکیں۔دیہی خواتین کو مارکیٹ بیسڈ ٹریننگ دیکر باوقار روزگار کا اہل بنانا ایک مثبت قدم ہے۔ جو خواتین کی خود اعتمادی بڑھانے، خاندان کو معاشی استحکام دینے اور دیہی معیشت کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر تربیت کو کاروباری مراکز کی ضرورت ، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے حقیقی مواقع سے منسلک کر دیا جائے تو پنجاب کی دیہی خواتین اپنی محنت اور صلاحیت کے بل پر خوش حالی کے سفر میں نمایاں کردار اد ا کر سکتی ہیں۔خواتین کو با اختیار بنانا دراصل ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد مستحکم کرنا ہے۔ دیہی خواتین کی ترقی کیلئے وزیراعلیٰ کے اقدامات قابل تحسین ہیں، شہری خواتین کے ساتھ ساتھ دیہی خواتین کو بھی اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہیں اور ان کی یہ کاوشیں ایک دن ضرور رنگ لائی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں