لاہور( بیورو چیف)پاکستان نے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری اور الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2.25 ارب ڈالر کی لاگت سے لیتھیم آئن بیٹریوں کی میگا فیکٹری قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ نے راولپنڈی میں بیٹری سازی کا کارخانہ قائم کرنے کے لیے چینی اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے جبکہ حکومتی پالیسی کی منظوری کے بعد آئندہ چھ سے آٹھ ماہ میں پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حامد علی منصور نے بتایا کہ منصوبے کے تمام فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل ہو چکے ہیں، عمارت تیار ہے اور مشینری بھی نصب کر دی گئی ہے، تاہم فیکٹری کو پیداوار شروع کرنے کے لیے حکومت کی لیتھیم بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کی منظوری کا انتظار ہے۔اس منصوبے کے حوالے سے رواں سال جولائی میں ایک چینی بیٹری ساز کمپنی اور مقامی نجی سرمایہ کار کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا۔ فیکٹری کے ابتدائی مرحلے میں سالانہ 200 سے 300 میگاواٹ گھنٹے کی بیٹری سیلز تیار کرنے کی صلاحیت ہوگی جسے بعد ازاں بڑھا کر ایک ہزار میگاواٹ گھنٹے سے بھی زیادہ کیا جائے گا۔یہ منصوبہ پاکستان میں بیٹریوں کی مقامی تیاری کی صلاحیت بڑھانے اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کے لیے درآمدات پر انحصار کم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔ گھریلو صارفین، صنعتی شعبے اور الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ملک میں بیٹریوں کی طلب میں مسلسل اضافے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے لیتھیم بیٹریوں کی تیاری سے متعلق پالیسی مرتب کرکے رواں سال مارچ میں وزارت صنعت و پیداوار کو ارسال کر دی تھی تاہم اس کی منظوری تاحال زیر التوا ء ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت ملک میں بیٹری سازی کے چار بڑے کارخانے قائم کرنے کا منصوبہ ہے جن میں سے تین پنجاب کے لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی ڈویژنز جبکہ ایک کراچی میں قائم کیا جائے گا۔




