عالمی امن کے فروغ کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت (اداریہ)

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی دونوں ایوانوں میں کامیابی نے امریکی سیاست میں اہم تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں نقصان کا سامنا کرنا پڑاجبکہ ڈیمو کریٹس نے کئی ایسی ریاستوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں جہاں روایتی طور پر ری پبلکن پارٹی کو مضبوط حمایت حاصل رہی ہے ۔ ایران کے ساتھ جنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی ،ایندھن کی قیمتوں اور ملکی پالیسیوں سے متعلق عوامی خدشات نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔ صدر ٹرمپ نے بھی انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے ڈیمو کریٹس کی کامیابی کا اعتراف کیا اور ان کے ساتھ کام کرنے پرآمادگی ظاہر کی ۔ یہ صورتحال امریکی جمہوری نظام میں عوامی رائے کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ امریکی ریاست میں وسط مدتی انتخابات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ ان کے ذریعے عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان انتخابات میں صدر کے عہدے کا فیصلہ نہیں ہوتا جبکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کے لئے نمائندے منتخب کئے جاتے ہیں۔ تاہم ان نتائج کے اثرات صدر کی آئندہ دو سالہ حکومتی حکمت عملی پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ ڈیمو کریٹس کی کامیابی سے امریکی کانگریس میں سیاسی توازن تبدیل ہو گیا ہے اور اب قانون سازی ، حکومتی اخراجات اور انتظامیہ کی نگرانی کے معاملات میں حزب اختلاف کا کردار مزید اہم ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور امریکی عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی انتہا پسندانہ سوچ اور جارحانہ اقدامات پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنی چاہیے۔ دنیا اب کسی نئی سرد جنگ یا عالمی تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی، طاقتور ممالک کی اصل عظمت اس میں نہیں کہ وہ کمزور یا مخالف ممالک کو فوجی قوت سے زیر کرنے کی کوشش کریں بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو تنازعات کے پر امن حل اور انسانیت کی فلاح کیلئے بروئے کار لائیں۔پاکستان سمیت عالمی برادری کو بھی اس موقع پر اپنا سفارتی کردار موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ قطر کی جانب سے امریکہ ایران تنازعہ کے حل کیلئے مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ دیگر علاقائی اور عالمی قوتوں کو بھی چاہیے کہ وہ امریکہ اور ایران کو کشیدگی کم کرنے ، جنگ بندی اور باہمی تنازعات کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اقوام متحدہ کو بھی محض بیانات اور تشویش کے اظہار تک محدود رہنے کے بجائے عالمی امن کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات اٹھانا چاہئیں۔کسی بھی ملک کی خود مختاری کو پامال کرنے اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے مفادات مسلط کرنے کی روش کی بہر صورت حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ آج دنیا کو مزید ہتھیاروں ، میزائلوں اور جنگی طیاروں کی نہیں بلکہ امن، برداشت، مفاہمت اور انسانی ہمدردی کی ضرورت ہے۔ دکھی انسانیت پہلے ہی جنگوں ،بھوک، غربت، بیماریوں اور معاشی ناہمواریوں کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں عالمی طاقتوں کی جانب سے نئی جنگوں کے خطرات پیدا کرنا انسانیت کے ساتھ سنگین نا انصافی ہے۔ صدر ٹرمپ کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کسی ایک انتخابی معرکے میں کامیابی یا سیاسی مقبولیت کیلئے دنیا کو جنگ کے دہانے پر نہیں پہنچایا جا سکتا۔ امریکہ میں انتخابی نتائج کے بعد اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ سیاسی قیادت امریکی عوام کی توقعات پر کسی حد تک پورا اترتی ہے۔ ڈیمو کریٹس کو ا پنی کامیابی کے ذریعے معاشی مسائل کے حل اور حکومتی جواب دہی کے لئے عملی اقدامات کرنا ہو نگے جبکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو کانگریس میں تبدیل شدہ سیاسی صورت حال کے مطابق قانون سازی اور قومی پالیسی کے معاملات آگے بڑھانا ہونگے، مجموعی طور پر امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج یہ پیغام دیتے ہیں کہ جمہوری نظام میں عوام کی رائے فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے ایران امریکہ جنگ کے اثرات، مہنگائی اور معاشی خدشات نے انتخابی ماحول کو متاثر کیا، جبکہ ڈیمو کریٹس کی کامیابی نے کانگریس میں سیاسی توازن تبدیل کر دیا۔ اب امریکی قیادت کے سامنے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے عالمی امن کے فروغ کیلئے بھی موثر اقدامات کرے، جنگ کے بجائے سفارت کاری، محاذ آرائی کی بجائے تعاون اور سیاسی نعروں کی بجائے مسائل کا عملی حل ہی کسی بھی جمہوری حکومت کی کامیابی کا حقیقی معیار قرار پاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں