پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول (اداریہ)

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وانا جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شہداء کی یادگار پر پھول رکھے اور مادر وطن کے دفاع میں قربانیاں دینے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا آئی ایس پی آر کے مطابق وانا جنوبی وزیرستان کے دورہ کے موقع پر فیلڈ مارشل کو مغربی سرحد پر سکیورٹی صورتحال اور آپریشن غضب للحق پر بریفنگ دی گئی، عاصم منیر نے اگلے مورچوں پر تعینات جوانوں سے ملاقات کی، فیلڈ مارشل نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور خطے میں امن واستحکام یقینی بنانے کے مستقل عزم کی تعریف کی فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج’ فتنہ الہندوستان پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے سرحد پار سے پیدا خطرے سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے افغان طالبان دہشتگرد تنظیموں کی حمایت ترک کریں وانا پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال کیا فیلڈ مارشل نے پاک افغان سرحد پر تعینات فارمیشنز کی جنگی تیاریوں اور ہم آہنگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا،، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغان طالبان کو واضح کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن اسی صورت ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں بصورت دیگر پاکستان انتہائی اقدام پر مجبور ہو گا چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس بیان کے بعد افغان طالبان کو سمجھ لینا چاہیے کہ انکی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان میں کارروائیاں کرنے سے سختی سے روکیں” اس وقت افغان طالبان کا بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ ہے اور بھارت واسرائیل درپردہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی فنڈنگ کر رہے ہیں جبکہ افغانستان سے امریکی فوج انخلا کے وقت جو اسلحہ افغانستان میں چھوڑ گئی تھی وہ اسلحہ اب دہشت گرد تنظیمیں استعمال کر رہی ہیں پاکستان میں مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے حملوں میں مارے جانے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے برآمد ہونے والا اسلحہ اس کا ثبوت ہے پاکستان نے دہائیوں تک افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی اور کابل میں امن کے لیے عالمی سطح پر وکالت کی اسے اب صلے میں دہشت گردی اور سرحدی جارحیت مل رہی ہے افغان طالبان کے اسرائیل اور بھارت کے ساتھ پس پردہ بڑھتے ہوئے رابطے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کابل کا موجودہ نظام اپنی نظریاتی اساس سے ہٹ کر عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بن چکا ہے، بھارت کو پاکستان کے ساتھ مختصر جنگ کے دوران جو نقصان ہوا وہ اس پر تلملا رہا ہے اور افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے دہشت گرد تنظیموں کو مالی تعاون کے ساتھ ساتھ اسلحہ گولہ بارود بھی فراہم کرتا ہے جس کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت اور اسرائیل افغان طالبان کے ساتھ ہیں اور پاکستان میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں ہماری فورسز دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں اور انہیں بھاری نقصان سے دوچار کر رہی ہیں دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ہماری فورسز کا عزم ہے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں