آئی ٹی سیکٹر کا ملکی معاشی استحکام میں اہم کردار

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان میں ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ملکی معیشت کے اہم حصوں میں شامل ہو رہا ہے، جہاں ڈیجیٹل سروسز، مصنوعی ذہانت، فری لانسنگ اور آئی ٹی برآمدات کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔حکام کے مطابق پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر ٹیکنالوجی میں تیز رفتار جدت، بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل صلاحیتوں اور برآمدی امکانات کے باعث ملکی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں موجود صلاحیت ملک کے تجارتی توازن کو بہتر بنانے، قومی ٹیکس بیس کو وسعت دینے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں مدد دے سکتی ہے۔ پاکستان کا ٹیکنالوجی ایکو سسٹم وقت کے ساتھ زیادہ پختہ اور عالمی سطح پر مسابقتی ہو رہا ہے۔مصنوعی ذہانت پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے میں بھی تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے صرف بیرون ملک تیار کیے گئے اے آئی ماڈلز استعمال کرنے کے بجائے مقامی ضروریات، زبانوں اور ڈیٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اے آئی سلوشنز تیار کرنا ایک اہم مرحلہ ہوگا۔ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی سطح پر اے آئی کی دوڑ تیز ہونے کے باعث جدید کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز، بڑے ڈیٹا سیٹس اور تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ بڑے اے آئی ماڈلز کو ابتدا سے تیار کرنے کے لیے درکار سرمایہ اور کمپیوٹنگ وسائل ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ پاکستان میں اس صورتحال کے پیش نظر مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں، انجینئرز اور تحقیقاتی اداروں کے ذریعے ایسے حل تیار کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے جو ملکی ضروریات کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں بھی استعمال کیے جا سکیں۔پاکستان کے لیے آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بن رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فری لانسنگ، آئی ٹی سروسز اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں میں موجود افرادی قوت پاکستان کو عالمی مارکیٹ سے مزید کاروبار حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی نوجوانوں کی فری لانسنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے ٹیکنالوجی کو روزگار اور برآمدی آمدن کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات بڑھے ہیں۔وفاقی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق حکومت ٹیکنالوجی کے شعبے میں انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل تبدیلی اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔وزارت کے مطابق ستمبر میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں ہواوے کے پہلے قومی سطح کے اسپئیر پارٹس ریپئر سینٹر کا افتتاح بھی کیا۔ اس سے قبل حکومت نے پاکستان میں سیمی کنڈکٹر کلسٹر کے فریم ورک کی تکمیل اور ٹیکنالوجی سے متعلق دیگر اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اگست میں پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کے افتتاح کو بھی ڈیجیٹل تبدیلی اور نوجوانوں کی ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بھی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی ماڈلز کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جبکہ حکومتیں اس ٹیکنالوجی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے قواعد و ضوابط پر بھی غور کر رہی ہیں۔ستمبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال میں انسانی نگرانی اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اے آئی کو عالمی ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک اور پہلو بننے سے روکنے اور اس ٹیکنالوجی کی ترقی میں انسانی فیصلوں اور کنٹرول کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بات کی۔ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کا انحصار صرف جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر نہیں بلکہ مقامی سطح پر تحقیق، مصنوعات اور سافٹ ویئر تیار کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی ہوگا۔اے آئی، سائبر سیکیورٹی، کلاڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، روبوٹکس اور ڈیجیٹل سروسز جیسے شعبوں میں مہارت رکھنے والے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں مزید مواقع فراہم کر سکتا ہے۔موجودہ رجحانات کے مطابق پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہوگا کہ وہ ٹیکنالوجی کے صارف کی حیثیت سے آگے بڑھ کر اے آئی اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا مقامی ڈویلپر، سروس پرووائیڈر اور برآمد کنندہ بننے کی صلاحیت پیدا کرے۔ یوں پاکستان میں آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کا شعبہ محض روزگار یا سافٹ ویئر سروسز تک محدود رہنے کے بجائے ڈیجیٹل معیشت، برآمدات اور عالمی ٹیکنالوجی ویلیو چین میں ملک کی پوزیشن بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں