کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور ہرات میں پر امن مظاہرین کے قتل عام کیخلاف یورپی ممالک میں احتجاجی لہر برقرار ہے۔سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں سینکڑوں افغان مہاجرین طالبان رجیم کی پالیسیوں اور خواتین پر مظالم کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، پلے کارڈز اٹھائے مظاہرین کا طالبان رجیم کیخلاف شدید نعریبازی، عالمی برادری سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا موقف اپنایا کہ طالبان رجیم سے سیاسی یا معاشی تعلقات رکھنا بیگناہ اور معصوم افغان مقتولین سے غداری ہے، یورپی سرزمین پر افغان طالبان جیسے انتہا پسند اور دہشت گرد غاصبوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے، سویڈش حکومت اور یورپی یونین افغان طالبان رہنماں کے یورپ داخلے اور ویزوں کے اجرا پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرے۔عالمی تنظیم ورلڈ لبرٹی کانگریس نے افغان رجیم کی ہرات میں مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین اور صحافیوں کیخلاف جاری کریک ڈائون طالبان رجیم کا انسانی حقوق سے انکار اور بدترین “جینڈر اپارتھائیڈ” کا ثبوت ہے، دنیا بھر میں مظاہروں کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ دکھاتی ہے کہ افغان عوام اب طالبان رجیم کے جابرانہ اقتدارکو مزید قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔




