جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اگر کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کی متوازن سفارت کاری اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ خطے میں امن’ استحکام اور مذاکرات کے فروغ کا خواہاں ہے۔ اگرعالمی طاقتیں سنجیدگی’ تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کریں تو موجودہ بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ طاقت کے مظاہرے وقتی برتری تو دے سکتے ہیں مگر پائیدار امن صرف اعتماد سازی’ باہمی احترام اور سفارتی مکالمے سے ہی ممکن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اور امریکہ اپنے اختلافات کو جنگی دھمکیوں کی بجائے سفارتی میز پر حل کریں تاکہ مشرق وسطیٰ ایک نئی تباہ کن جنگ سے محفوظ رہ سکے اور دنیا مزید عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی سے عالمی منڈیاں بھی لرز اٹھیں ہیں، تیل 111 ڈالر سے متجاوز، اسٹاک مارکیٹ کریش’ مہنگائی کے خدشات کے سائے منڈلانے لگے۔ بڑی معیشتوں میں افراط زر کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں اور سرمایہ کاروں نے حصص دھڑا دھڑ فروخت کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کی وجہ آبنائے ہرمز کے آس پاس بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے جس کے بارے میں خدشہ کیا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کو توانائی کے ایک شدید بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ مارکیٹ میں اس تازہ ترین بے یقینی اور خوف کی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی وہ سخت وارننگ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو تیزی سے امن معاہدے کی طرف بڑھنا چاہیے ورنہ ”ان کا نام ونشان تک باقی نہیں رہے گا”۔ اس بیان نے مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کے خدشات کو ہوا دی ہے جو دنیا کے سب سے اہم بحری تجارتی راستوں میں سے ایک کو مفلوج کر سکتی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھائو کے دوران 18مئی کو برینٹ کروڈ کی تجارت 110 سے 112 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہوئی جبکہ امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 102 سے 114 ڈالر کے قریب منڈلاتی رہی۔ اس تیزی نے قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اس سلسلے کو مزید طویل دے دی ہے جس نے خام تیل کو موجودہ سہ ماہی کے آغاز میں 95ڈالر کے آس پاس کی سطح سے تیزی سے اوپر دھکیل دیا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے متضاد اشاروں اور مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں ٹرمپ کی بار بار دی جانے والی انتبا ہی دھمکیوں پر تاجروں نے شدید گھبراہٹ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اچانک اچھال دنیا بھر میں افراط زر (مہنگائی) کے خدشات کو تیزی سے ہوا دے رہا ہے اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد اور سوچ کو بھی بدل رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر دنیا کو ایک ایسے خطرناک موڑ پر لے آئی ہے جہاں کسی بھی غلط فیصلے کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری عالمی سیاست اور معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ایک امید افزا پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور سفارتی دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی جاری ہیں اور دونوں فریق ایک دوسرے کی تجاویز کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کی اولین ترجیح خطے میں امن واستحکام کا تحفظ اور جنگ کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ جبکہ عمان میں آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے حوالے سے تکنیکی مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام خصوصاً یورینیم افزودگی کے حق پر کسی قسم کے سمجھوتے سے انکار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت تسلیم حق قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہائوس اور پینٹاگون ایران کے توانایی اور بنیادی ڈھانچے پر محدود حملوں سمیت مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ اس طرح موجودہ صورتحال ایک عجیب تضاد کی عکاس ہے جہاں ایک طرف مذاکرات اور سفارت کاری کی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب جنگ کے سائے بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں ایسے نازک حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور رابطے بحال رکھنے میں سرگرم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگرچہ یورینیم افزودگی ایران کا قانونی حق بھی ہے۔ تاہم اعتماد سازی کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ایران کو سفارتی سطح پر لچک اور ذمہ داری کا بھی مظاہرہ کرنا ہو گا تاکہ عالمی سطح پر کشیدگی کم ہو سکے۔ اسی طرح امریکہ کو بھی طاقت کی زبان کے بجائے مذاکرات’ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی پاسداری کو بھی ترجیح دینا ہو گا تاکہ دنیا کا امن برقرار رہے۔




