ایران امریکہ معاہدہ’ نہایت خوش آئند پیشرفت (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امن کا سورج طلوع ہو گیا ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں امن معاہدے کی دستخطی تقریب پاکستان کی میزبانی میں 19 جون کو ہو گی’ اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج دنیا نے امن کا تاریخی سنگ میل عبور کیا۔ جنگ کے بعد امن کا سورج بھی طلوع ہو گیا ہے۔ اسلام آباد نے سفارتی رابطوں میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکہ ایران ثالثی میں دن رات ایک کر کے اس معاہدے کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت ہوئی ہے۔ 3ماہ 6 دن کی بے پناہ آزمائشوں کے بعد ایران’ امریکہ نے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب 19جون کو جنیوا میں ہو گی۔ پاکستانی قوم سمیت عالمی برادری کو اس کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ تاریخی معاہدہ سفارت کاری اور مذاکراتی عمل کی کامیابی ہے۔ یہ صرف 2ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ یہ امن اور مکالمے کی فتح ہے۔ یہ سفارت کاری کی کامیابی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنگ کے شعلے ماند کرنے اور امن کیلئے دن رات کاوشیں کیں، قومیں ایسے قیمتی لمحات کیلئے صدیوں انتظار کرتی ہیں۔ یہ عظیم لمحہ وطن عزیز کے ہر شہری کیلئے باعث فخر ہے، خلوص استقامت اور دانشمندی سے اس مشکل مرحلے کو پار کیا۔ اس جنگ کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا اور اس کی معیشت لزر گئی اور پاکستان کی معیشت پر بھی بے پناہ اثر آیا جو اب تک جاری ہے۔ حکومت اس امن معاہدے کے نتیجے میں عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی تک پہنچائے گی۔ یہ کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے اور آج دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان امن’ استحکام اور مکالمے کا علمبردار ملک ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حکومت نے سپریم لیڈر کی ہدایت پر ہی مذاکراتی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جنگ اور مذاکرات سے متعلق تمام فیصلے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل کونسل سکیورٹی کونسل کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں کی پابندی تمام دھڑوں کیلئے لازم ہے۔ ایرانی عوام کے سامنے خود کو جوابدہ اور ذمہ دار سمجھتے ہیں، کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ تنقید معاشرے کا حق ہے مگر شرافت کے تقاضے بھی ضروری ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امرایکہ اور ایران کے درمیان امن کی مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے۔ جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرنا شروع کر دیا ہے، کئی بحری جہازوں پر تیل لدا ہوا ہے، آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بحری جہاز جنوب کے محفوظ علاقے کی جانب رواں دواں ہیں۔ جہازوں کے سفر کے لیے دیگر راستے بھی موجود ہیں۔ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکی ہے اور جمعہ تک مکمل طور پر کھل جائے گی معاہدے پر عملدرآمد کی سخت نگرانی کی جائے گی۔ اگر ایران شرائط پوری کرتا ہے تو پابندیوں میں نرمی بھی ہو سکتی ہے اور اگر نہیں کرتا تو ہم دوبارہ وہیں واپس جائیں گے جہاں سے آغاز ہوا تھا۔ ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی اچھے انداز میں ہوئے اور دونوں فریقین کے درمیان بہتر تعلقات کی امید ہے۔ ایران کو صرف اسی صورت ریلیف ملے گا جب وہ معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کرے گا۔ یہ مکمل طور پر رویے کی تبدیلی سے مشروط ہو گا۔ معاہدے کا متن رواں ہفتے جاری ہونے کی امید ہے جبکہ معاہدے کی تفصیلات پر مزید مذاکرات جاری رہیں گے۔ امید ہے کہ آبنائے ہرمز طویل مدت کے لیے بغیر کسی ٹول فیس کے کھلے رہے گی۔ ٹول فری رسائی عارضی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکہ آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس بار سیاسی دانش مندی’ علاقائی امن وامان’ علاقائی ضرورتوں اور دنیا کا امن قائم رکھنے میں’ علاقائی ضرورتوں اور اقتصادی حقائق کا امتزاج جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دے گا کیونکہ پوری دنیا میں اگر امن ہو گا تو ظلم وجبر سے سسکتی ہوئی انسانیت کوسکون میسر ہو گا۔ دونوں ممالک ہی جنگ کی بجائے امن کو ترجیح دینگے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کے عوام کو زیادہ محفوظ’ خوشحال اور مستحکم مستقبل کی طرف لے کر جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں