امریکہ ایران مفاہمت کیوں ناکام ہوئیَ؟

واشنگٹن /تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد وقفے کے بعد ایک بار پھر بڑے پیمانے پر حملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس سے خطے میں وسیع جنگ پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ امریکی فوج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا، جب کہ ایران نے اردن، بحرین، کویت اور عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں موجود امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں پاسدارانِ انقلاب کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، مواصلاتی مراکز، بحری اثاثوں اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔دوسری جانب ایران نے دعوی کیا ہے کہ ان امریکی حملوں میں آبنائے ہرمز کے قریب کوہستک میں ایک شادی کی تقریب بھی نشانہ بنی، جہاں ایرانی حکام کے مطابق کم از کم چار افراد ہلاک اور 68 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ایرانی حکام کے مطابق خوزستان میں بھی امریکی میزائل حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے، جب کہ ملک کے مختلف علاقوں میں تازہ امریکی حملوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 18 بتائی گئی ہے۔ امریکی فوج نے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ایران نے جوابی کارروائی میں بحرین کے شیخ عیسی فضائی اڈے، اردن کے شہزادہ حسن فضائی اڈے اور امریکی بحری فوج کے ایک اڈے، کویت میں علی السالم فضائی اڈے اور عراق کے اربیل میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 13 بیلسٹک میزائلوں میں سے 10 کو تباہ کردیا، جب کہ باقی تین دور دراز علاقوں میں گرے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ کویت نے بھی میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا دعوی کیا ہے۔گذشتہ روز امریکی فوج کے آبنائے ہرمز کے قریب پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فار، ٹروتھ سوشل پر خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی حملوں کا جواب دیا تو اسے اس سے کہیں زیادہ سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوہستک میں شادی کی تقریب بھی نشانہ بنی۔ ایرانی حکام نے عالمی برادری سے ان حملوں پر کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ان کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔تازہ حملوں میں ایک بار پھر آبنائے ہرمز اس تنازع کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں اب محض بحری راستہ نہیں بل کہ ایک اہم سیاسی اور عسکری دبا کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔واشنگٹن ایران پر آبنائے ہرمز میں عائد پابندیاں ختم کرنے کے لیے دبا ڈال رہا ہے، جب کہ تہران کا مقف ہے کہ امریکا پہلے ایرانی بندرگاہوں کے قریب اپنی بحری ناکا بندی ختم کرے۔یہ صورتِ حال اس سوال کو دوبارہ اہم بنا رہی ہے کہ آخر اسلام آباد میمورنڈم کی مفاہمت کہاں گئی جس سے جون میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور وسیع تر امن مذاکرات کی امید پیدا ہوئی تھی؟17 جون کو پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں امریکا اور ایران نے 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد فوجی کارروائیاں روکنا اور 60 دن کے اندر وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔اس وقت یہ معاہدہ ایک ایسے بحران میں اہم پیش رفت سمجھا گیا تھا جس نے خطے کو براہ راست جنگ کے خطرے سے دوچار کردیا تھا، لیکن یہ مفاہمت صرف چند دنوں میں عملی طور پر کمزور پڑنے لگی اور اب دونوں ملک ایک مرتبہ پھر براہ راست عسکری محاذ آرائی کی طرف بڑھ چکے ہیں۔اس مفاہمت کے تحت دونوں جانب سے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس میں لبنان بھی شامل تھا۔امریکا نے 30 دن کے اندر اپنی بحری ناکا بندی ختم کرنے، حتمی معاہدے کے بعد ایران کے قریب موجود اپنی افواج واپس بلانے اور ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے پیکیج پر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔امریکا کی جانب سے پابندیاں اٹھانے، ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے استثنی دینے اور ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کی اجازت دینے کی بات بھی مفاہمت کا حصہ تھی۔اس کے بدلے ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے اور 60 دن تک تجارتی جہازوں کو آزادانہ گزرنے دینے پر اتفاق کیا تھا۔ ایران نے یہ بھی دوبارہ واضح کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور یورینیم افزودگی کے معاملے پر مذاکرات کرے گا۔ حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہونا بھی مفاہمت کا حصہ تھا۔لیکن مفاہمت کے الفاظ اور اس پر عمل درآمد کی شرائط میں موجود ابہام جلد ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور اس راستے پر اختیار کا سوال دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تنازع بن گیا۔عمان نے امریکی حمایت سے ایسا بحری راستہ جاری کیا جو عمانی ساحل کے قریب سے گزرتا تھا، جب کہ ایران نے ایرانی ساحل کے قریب ایک الگ راستہ تجویز کرتے ہوئے عمان کے راستے کو محدود قرار دیا۔25 جون کو عمان کے قریب سنگاپور کے پرچم بردار تجارتی جہاز ایور لولی کو ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا۔ ایران نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی اس کی تردید کی، جبکہ امریکا نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کیا۔صرف دو روز بعد 27 جون کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے جنوبی ساحل پر میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ایران نے امریکی حملے کو مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس کے جواب میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یوں مفاہمت پر دستخط کے صرف 10 روز بعد ہی وہ جنگ بندی جس سے وسیع تر مذاکرات کی امید پیدا ہوئی تھی، دوبارہ حملوں میں تبدیل ہوگئی۔تنازع صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں تھا۔ مفاہمت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے کی بات کی گئی تھی، لیکن اسرائیل کا نام واضح طور پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔اسرائیل نے لبنان اور غزہ میں حملے جاری رکھے، جب کہ ایران کا مقف تھا کہ اگر اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں گی تو انہیں بھی مفاہمت کے دائرے میں آنا چاہیے۔ اسرائیل نے اس تشریح کو قبول نہیں کیا۔اسی طرح ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر کے پیکیج کا وعدہ بھی واضح نہیں تھا کہ یہ رقم کون فراہم کرے گا، کن شرائط کے تحت فراہم ہوگی اور اس کا عملی طریقہ کار کیا ہوگا۔ امریکی پابندیوں کے معاملے میں بھی یہ ابہام برقرار رہا کہ مفاہمت میں صرف امریکی پابندیوں کی بات ہورہی ہے یا اقوام متحدہ کی پابندیاں بھی اس میں شامل ہوں گی۔ان ابہامات کے پیچھے اصل مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان تھا۔ ایران کو خدشہ تھا کہ امریکا معاہدے کی شرائط کی اپنے سیاسی مفاد کے مطابق نئی تشریح کرسکتا ہے، جب کہ امریکا کو اندیشہ تھا کہ مذاکرات کے لیے ملنے والے وقفے کو ایران اپنی فوجی صلاحیت دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ چنانچہ جنگ بندی کے باوجود دونوں جانب بداعتمادی کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہی۔7 جولائی کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ مفاہمت ختم ہوچکی ہے۔ ایران نے بعد میں مقف اختیار کیا کہ امریکا نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کی، اس لیے ایران نے بھی اپنی ذمہ داریاں معطل کردی ہیں۔ اس کے بعد مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں جاری رہیں، لیکن براہ راست امریکا ایران بات چیت میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہوسکی۔اگست میں ایران نے کہا کہ وہ امریکا سے براہ راست مذاکرات نہیں کررہا، تاہم آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام کے بارے میں عمان کے ساتھ رابطے جاری رہے۔ پاکستان نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کی۔17 اگست کو مفاہمت کے تحت مقررہ 60 روزہ مدت ختم ہوگئی، لیکن اس وقت تک کوئی جامع معاہدہ سامنے نہیں آیا تھا۔ ایران کا کہنا تھا کہ امریکا کی خلاف ورزیوں کے بعد یہ مدت عملی طور پر بے معنی ہوچکی ہے۔موجودہ حملوں کے بعد بھی مذاکرات کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں کہا ہے کہ اگر امریکا جون کی مفاہمت کی شرائط پر واپس آتا ہے تو ایران بھی اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری محاذ آرائی کے باوجود تہران اب بھی کسی نہ کسی شکل میں مذاکرات کی گنجائش برقرار رکھنا چاہتا ہے۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے برعکس کہا ہے کہ امریکا ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش نہیں کررہا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز پر تقریبا مکمل امریکی کنٹرول اور ایران کی معیشت پر بڑھتے ہوئے دبا کو امریکا کی موجودہ پوزیشن کے لیے بہتر قرار دیا ہے۔واشنگٹن کی حالیہ معاشی پابندیوں کا مقصد بھی ایران پر دبا بڑھانا اور اسے مذاکرات کی طرف لانا بتایا گیا، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ معاشی دبا اسے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ماہرین کے مطابق موجودہ صورتِ حال محض ایک وقتی فوجی جھڑپ نہیں بل کہ ان بنیادی تنازعات کا نتیجہ ہے جو جون کی مفاہمت کے دوران حل نہیں ہوسکے تھے۔ بحری سلامتی کے ماہر الیگزینڈرو ہودیستینو نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کشیدگی بار بار دوبارہ پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ جنگ کسی واضح عسکری نتیجے پر ختم نہیں ہوئی اور دونوں فریقوں کے پاس دوبارہ کارروائی شروع کرنے کی وجوہ موجود ہیں۔ان کے مطابق امریکا یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل اختیار نہیں، جب کہ تہران اس راستے کو اپنے لیے ایک اہم دبا کے ذریعے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ امریکا ایران کی جانب سے عائد بحری پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے، جب کہ ایران چاہتا ہے کہ امریکا پہلے ایرانی بندرگاہوں کے قریب اپنی بحری ناکا بندی ختم کرے۔اس پورے بحران کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آسکتے ہیں۔ جون کی مفاہمت نے ثابت کیا کہ دونوں فریق جنگ کے درمیان بھی کسی سمجھوتے کے لیے راستہ نکال سکتے ہیں، لیکن اس کی ناکامی نے یہ بھی واضح کردیا کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں، معاہدے کی ہر شق، خصوصا آبنائے ہرمز، پابندیوں، جوہری پروگرام، فوجی موجودگی اور علاقائی محاذوں کے بارے میں واضح اور قابلِ عمل ضمانتیں ضروری ہوں گی۔موجودہ حملوں کے بعد مذاکرات کی راہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگئی ہے۔ تاہم نہ امریکا اپنی عسکری برتری کے باوجود ایران کے مستقبل اور پورے خطے کے لیے مستقل سیاسی بندوبست صرف فوجی طاقت سے یقینی بنا سکتا ہے اور نہ ایران طویل عرصے تک مسلسل جنگ کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ مذاکرات دوبارہ ہوں گے یا نہیں، بل کہ یہ ہے کہ وہ کن شرائط پر، کتنی تباہی کے بعد اور کس حد تک کم ہونے والے اعتماد کے ساتھ دوبارہ شروع ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں