واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ایران کے جزیرے قشم پر حملہ کیا ہے، یہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف واشنگٹن کی جانب سے غیر اعلانیہ طور پر کیے جانے والے محدود حملوں کے سلسلے کی تازہ کارروائی ہے۔امریکی حکام نے مزید کہا ہے کہ ایران پر حملے دفاعی نوعیت کے ہیں، ان حملوں کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں سے روکنا ہے۔قبل ازیں ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے سٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں شدید دھماکے ہوئے، قشم جزیرے پر یکے بعد دیگرے 5 زوردار دھماکے سنے گئے۔دھماکوں کی شدت سے قریبی عمارتوں کے در و دیوار لرز اٹھے، مقامی آبادی نے فضائی حدود میں نامعلوم جنگی طیاروں کی پروازوں کا دعوی بھی کیا ہے۔ان دھماکوں کے فوری بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ انہوں نے جزیرہ قشم کے جنوب میں جدید الیکٹرانک وار فیئر سسٹم کے ذریعے امریکا کے 2 ایم کیو ایم ون سیون زیرو جاسوس ڈرونز کو ناکارہ بنا کر قبضے میں لے لیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک امریکی ایم کیو نائن ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے۔دریں ثناء ۔تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کیلئے سفارتی کوششیں تیز ہوگئیں، قطری ثالث ایک بار پھر تہران پہنچ گئے ہیں۔برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق قطری ثالثوں کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات متوقع ہے، مجوزہ معاہدے کے امکانات پر گزشتہ 8 روز سے مذاکرات جاری ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے کا نیا مسودہ تیار کر کے متعلقہ فریقین کو ارسال کر دیا ہے، تہران نے اپنی تجاویز کو مختصر کرتے ہوئے مجوزہ معاہدے کو ایک نئے وژن کی شکل دی ہے۔رائٹرز نے اپنی خبر میں یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ دنوں میں ایک اور ملاقات ہو سکتی ہے۔




