ماموں کانجن (نامہ نگار ) ماموں کانجن انتظا میہ کی لاپرواہی سے سیم نہر کا دیرینہ مسئلہ حل نہ ہو سکا، اندرون شہر اور گردونواح کا پانی مکمل خراب آلودہ پانی سے ہیپاٹائٹس، جلدی امراض اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ شہریوں کا سیم نہر پختہ کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق ماموں کانجن انتظامیہ کی مسلسل لاپرواہی کے باعث شہر کے وسط سے گزرنے والے قاتل سیم نہر کا دیرینہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ سیم نہر کچی ہونے کی وجہ سے سیوریج اور گندہ پانی زمین میں جذب ہو کر اندرون شہر اور گردونواح کے واٹر سپلائی کے پانی کو مکمل طور پر آلودہ کر رہا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر گھر کا پانی بدبودار اور نمکین ہو چکا ہے۔ پینے کے قابل نہیں رہا۔ مجبوراً لوگ مہنگا فلٹر/باٹل والا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ گندے پانی کی وجہ سے بچوں اور بزرگوں میں ہیپاٹائٹس، جلدی امراض اور معدے کی بیماریاں عام ہو گئی ہیں۔ شہریوں’سماجی و کاروباری حلقوں نے حکومت وقت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر شہر میں ”کروڑوں” کے فنڈز منظور ہوتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے سیم نہر فنڈ کی وجہ سے آج تک پختہ نہ ہو سکی ۔ اسے فوری پختہ کر کے لائننگ کی جائے تاکہ شہر اور گردونواح کو صاف پانی میسر آ سکے۔ اور شہر یوں کو مختلف بیماریوں سے نجات مل سکے۔




