انتظامی اصلاحات عوام کے لئے نیک شگون (اداریہ)

پنجاب کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی ونجکاری نے قانون سازی اور انتظامی اصلاحات سے متعلق متعدد اہم تجاویز کی منظوری دے دی، جن میں بچوں کے تحفظ کے قوانین کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترامیم، پنجاب اثاثہ جات مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام’ لاہور اور انڈونیشیا کے شہر بانڈونگ کے درمیان سسٹرسٹی معاہدہ’ بلدیاتی نظام اور اسکول ایجوکیشن سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔ بلدیاتی نظام’ اسکول ایجوکیشن’ تعلیمی کیلنڈر’ یونین کونسل ملازمین کے سروس رولز اور فلاحی لائونسز سمیت متعدد تجاویز منظور کی گئیں، صوبائی سرکاری اثاثوں کی نگرانی’ ترقی اور تجارتی استعمال کے لیے خودمختار اتھارٹی بھی قائم ہو گی، شفاف ڈیجیٹل بولی کے ذریعے سرمایہ کاروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ پنجاب سول سیکرٹریٹ کے دربار مال میں قائمہ کمیٹی کا 37واں اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں محکمہ داخلہ’ بلدیات اور اسکول ایجوکیشن سے متعلق آٹھ نکاتی ایجنڈے پر غور بھی کیا گیا۔ مجوزہ ترامیم کے تحت آرڈیننس میں بچوں کی عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کر 16سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے نتیجے میں زیادہ تعداد میں کم عمر اور غیر محفوظ بچوں کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔ اسی طرح قانون پر عملدرآمد کے لیے موجودہ انتظامی طریقہ کار کی جگہ ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر پنجاب کو باضابطہ طور پر مجاز اتھارٹی مقرر کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (تقرری وشرائط ملازمت) سروس ریگولیشنز2016ء میں ترامیم کی بھی توثیق کی، جن کے تحت ملازمین کے لیے مینجمنٹ اور ویلفیئر الائونسز متعارف کرائے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد ادارے کی کارکردگی بہتر بنانا اور تجربہ کار واہل ملازمین کو برقرار رکھنا ہے۔ تعلیمی سال 2026-27 ء کے لیے اکیڈمک کیلنڈر کی منظوری بھی دی گئی جبکہ پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن رولز 2024ء کے رول10 میں ترامیم کی بھی توثیق کی گئی۔ ان ترامیم کے تحت کم ازکم تدریسی دن، ہنگامی تعطیلات اور تعلیمی نقصان کے ازالے کے لیے اضافی کلاسوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ طلبہ کی تعلیم میں تعطل کم سے کم ہو۔ پنجاب میں خصوصاً بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین تو تھے لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر تھا اب پنجاب حکومت نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایسے قوانین مرتب کر دیئے ہیں جن پر مزید عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ اہم ترین فیصلوں میں پنجاب اثاثہ جات مینجمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2026ء کے مسودے کی منظوری بھی شامل تھی۔ جس کے تحت صوبائی حکومت کے اثاثوں کی نگرانی’ انتظام’ ترقی اور تجارتی استعمال کے لیے ایک بااختیار قانونی ادارہ قائم کیا جائے گا۔ مجوزہ اتھارٹی سرکاری اثاثوں کا مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرے گی، پنجاب کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی ونجکاری نے قانون سازی اور انتظامی اصلاحات سے متعلق اہم تجاویز کی منظوری دی جو خوش آئند اقدام ہے، لیکن ان قوانین پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہو گا، پنجاب کے بے شمار مقامات پر قابضین نے قانونی زمینوں پر ناجائز قبضے بھی کر رکھے ہیں ان کو واگزار کرانے کیلئے سخت قسم کے قوانین بنانے ہونگے تاکہ سرکاری زمینوں پر کوئی بھی اپنی اجارہ داری قائم نہ رکھ سکے، بچوں کی جان کے تحفظ کیلئے بھی قوانین پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اس سلسلے میں تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں