امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کیخلاف حملے بھی جاری ہیں، امریکی صدر نے دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کے محافظ کے نام سے جانا جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظامی امور میں کسی قسم کی مداخلت اور امریکہ کو کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ کسی بھی مداخلت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ امریکہ کی حمایت اور اس کا ساتھ دینے کو ایران کیخلاف جنگ تصور کیا جائے گا۔ کشیدگی میں اضافہ ہوا تو یہ جنگ خطے کے دیگر ممالک تک پھیل جائے گی اور اس کی مکمل ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہو گی۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کر کے عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔ ہم امریکہ کو اس کی نئی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں مزید مایوسی سے دوچار کریں گے۔ دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے ثالث اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران نے خطے کے کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خطے کے ممالک نے ایران کیخلاف کسی فوجی جارحیت میں تعاون کیا تو وہ ایرانی مسلح افواج کیلئے ہدف بن سکتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں میں مشرق وسطیٰ مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ عراق’ شام’ یمن’ لبنان اور غزہ کے تنازعات نے پہلے ہی خطے کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست عسکری تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف انہی دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف توانائی کی فراہمی متاثر ہو گی بلکہ سرمایہ کاری’ سمندری تجارت اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ جنگیں کسی بھی مسائل کا حل نہیں ہیں لہٰذا دونوں فریقین کو اس موقع پر عقل سے کام لینا ہو گا اور پوری دنیا کے امن کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ آج مشرق وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط اندازہ’ ایک غیر محتاط فیصلہ یا ایک محدود عسکری کارروائی بھی وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اس نازک وقت میں پاکستان نے دونوں فریقین کے درمیان جو ثالثی کا کردار ادا کیا تھا دونوں کو اس معاہدے کی پاسداری بھی کرنا ہو گی اور طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارت کاری اور محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دینا ہی دانشمندانہ راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پوری دنیا میں اس وقت اضطرابی کیفیت طاری ہے۔ یہی چند میل چوڑا سمندری راستہ عالمی معیشت توانائی’ تجارت اور سفارت کاری کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ اگر اسے تصادم کا میدان بنا دیا گیا تو اس کے اثرات کسی ایک ملک یا ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فریقین بین الاقوامی ذمہ داریوں’ علاقائی استحکام اور انسانی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کریں جو کشیدگی میں اضافے کے بجائے امن’ اعتماد اور مذاکرات کی فضا کو فروغ دیں۔ یہی راستہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے محفوظ’ مستحکم اور پرامن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ساری صورتحال میں پاکستان کا مضبوط کردار اپنی جگہ بھی اہمیت کا حامل ہے اور یہی کردار اسے پوری دنیا میں نمایاں بھی کرتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کو بھی اپنی طاقت کے نشے سے نکل کر دنیا کے امن کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں موجود ممالک کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا بلکہ وہاں موجود امریکی مفادات اور اڈوں پر ردعمل میں حملے کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایک جامع مشاورتی عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے لیے پاکستان’ ایران اور ترکیہ کے علاوہ تمام خلیجی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر بات کرنی چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ قیام امن کے لیے کیا امکانات موجود ہیں جنہیں فوری طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے، یقینی طور پر قیام امن ہی پوری دنیا اور مشرق وسطیٰ کیلئے زندگی کا ضامن ہے کیونکہ امن اگر ہو گا تو پائیدار ترقی لازم وملزوم ہے اسی میں دونوں فریقین کیلئے بہتری ہے۔




