تہران (بیوروچیف) ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے بعد سے ایران کے جوابی حملوں میں 200سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے امریکی ہلاکتوں سے متعلق واشنگٹن کے اعداد و شمار کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اعداد و شمار حقائق کے برعکس ہے۔پاسداران انقلاب نے امریکی فوجی اڈوں پر لڑاکا طیارے تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتوں کی جنگ میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 17ڈرون طیارے تباہ کیے، اس کے علاوہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر زمین پر کھڑے 11 امریکی جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ بھی کیے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے مزید بتایا کہ سی 17ٹرانسپورٹ طیارہ اور 8 ری فیولنگ طیارے بھی ایرانی حملوں میں تباہ کیے گئے۔ ایرانی حملوں میں خطے میں امریکا کے 8فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، ایک مقام پر موجود 20حفاظتی شیلٹرز بھی تباہ کر دیے گئے۔ جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکی حکومت کو صحافیوں کو تباہ ہونے والے امریکی فوجی مراکز کا دورہ کرانا چاہیے تاکہ وہ خود اندازہ لگا سکیں کہ دو ہفتوں کے دوران ایران کیخلاف جنگ میں کتنے امریکی فوجی مارے گئے۔پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ اسرائیل جانتا ہے کہ اگر وہ جنگ میں پھر سے شامل ہوا تو ایران اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اسرائیل کی ممکنہ مداخلت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔دریں ثناء ۔واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے اور اس نے خلاف ورزی کرنے والے 12بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کیا۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی فوج نے احکامات کی تعمیل نہ کرنے والے دو جہازوں کو ناکارہ بنا دیا اور ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دو جہازوں پر چڑھ کر تلاشی لی۔ سینٹکام نے بتایا کہ امریکی افواج نے بحیرہ عرب میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر چارمینار پر سوار ہو کر جانچ پڑتال کی اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس تیل بردار بحری جہاز کو اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ بیان کے مطابق امریکی افواج نے 24جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر لاوین کو ناکارہ بنا دیا، کیونکہ اس کے عملے نے متعدد بار ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی اور امریکی افواج کی بار بار کی تنبیہ کو نظر انداز کیا، یہ جہاز اب ایران کی جانب سفر نہیں کر رہا۔امریکا نے 14جولائی سے ان جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر رکھی ہے جو ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جاتے ہیں یا وہاں سے روانہ ہوتے ہیں۔سینٹکام نے کہا ہے کہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر 2 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔




