ایران’ امریکہ جنگ بندی’ امن کی جانب اہم پیشرفت (اداریہ)

کشیدگی کے حالات میں جنگ بندی یا حملوں کا رک جانا ہمیشہ ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جاتا ہے۔ ایران نے حملے روک کر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے تو یہ کشیدگی میں کمی اور مسائل کے پرامن حل کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ خطے میں امن واستحکام کے لیے ایسے اقدامات حوصلہ افزا سمجھے جاتے ہیں۔ امریکہ کے بعد ایران نے بھی حملے روک دیئے ہیں اور کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے حملے روکنے کے بعد ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر جوابی حملے روک دیئے ہیں، امریکہ نے دوبارہ فوجی حملے شروع کئے تو مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ امریکہ سٹریٹجک فیصلہ سازی کے حوالے سے تھکن کا شکار ہے۔ اس کے پاس کوئی واضح حکمت عملی نہیں۔ ایران اس وقت اپنے حملے روکے رکھے گا جب تک امریکہ اپنی جانب حملے روکنے کا موجودہ وقفہ برقرار رکھتا ہے۔ یہ پیغام پہلے ہی امریکہ تک پہنچایا جا چکا ہے۔ ایران نے بھی پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جنیوا’ دوحہ یا اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری رہنے چاہئیں۔ ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات پہلی سطح پر آبنائے ہرمز پر ہوں دوسرے مرحلے میں ان کے منجمد اثاثوں اور آخری سطح پر جوہری پروگرام پر مذاکرات ہوں۔ پاکستان کو ایران نے بتایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے ایک نئی راہداری بنانے کے اقدام کو مسترد کرتا ہے۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایرانی فوج نے جنگ بندی کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوتی بلکہ اس سے انسانی جانوں کا ضیاع معاشی نقصان اور علاقائی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اس لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات’ سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عالمی برادری بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے جو امن کے قیام میں معاون ثابت ہوں۔ قطر نے تقریباً دو ہفتوں کے تعطل کے بعد بحری سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام اور محفوظ جہاز رانی کے حوالے سے عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ دونوں ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق کے احترام پر اتفاق رائے پایا گیا۔ کئی تکنیکی اور سیاسی نکات پر مزید مشاورت جاری رہے گی۔ امریکہ ایران کو کمزور کرنے اور آبنائے ہرمز میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عراق اور کویت کے درمیان مرکزی سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھول دی گئی۔ ایرانی صدر نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان جرائم کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھایا جانا چاہیے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مذاکرات کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور دیرپا امن کے لیے سنجیدہ اور مثبت کوششیں کی جائیں، طاقت کے استعمال کی بجائے بات چیت’ اعتماد سازی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی وہ راستہ ہے جو خطے میں پائیدار امن’ استحکام اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں