ایران سے جنگ ختم،ٹرمپ کا کانگریس کو خط

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ 28فروری 2026کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ ختم ہو چکی ہے تاہم انہوں نے مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہائوس کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے خط میں صدر ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے ساتھ شروع ہونے والی فوجی کشیدگی اب باضابطہ طور پر ختم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق 7اپریل 2026کو انہوں نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا حکم دیا تھا جو بعد ازاں توسیع پا گئی اور اس کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان کسی قسم کی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔ ٹرمپ نے اپنے خط میں لکھا کہ 28فروری کو شروع ہونے والی دشمنیاں ختم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 7اپریل کے بعد سے امریکی افواج اور ایران کے درمیان کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی قانون یعنی وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی فوجی کارروائی کے 60دن سے زیادہ جاری رہنے کی صورت میں کانگریس سے منظوری حاصل کرے۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے مطابق جنگ بندی اور دشمنیوں کے خاتمے کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ وہ اس 60روزہ آئینی گھڑی کو دوبارہ شروع کر رہے ہیں جس سے کانگریس کی جانب سے ان کی فوجی اختیارات پر قدغن لگانے کی کوششیں مشکل ہو سکتی ہیں۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی میں اس موقف کا اشارہ دیا کہ 60روزہ وقت کی حد جنگ بندی کے دوران معطل ہو سکتی ہے۔ تاہم ڈیموکریٹ اراکین نے اس تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بحری ناکہ بندی اب بھی دشمنی کی حالت شمار ہوتی ہے۔ گزشتہ روز امریکی سینیٹ نے ایک ایسی قرارداد کو مسترد کر دیا جس کا مقصد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی ختم کرنے یا کانگریس سے باضابطہ اجازت لینے پر مجبور کرنا تھا۔ یہ قرارداد 47کے مقابلے میں 50ووٹوں سے ناکام ہوئی۔ دو ریپبلکن سینیٹرزسوسن کولنز اور رینڈ پال نے ڈیمو کریٹس کے ساتھ مل کر اس کی حمایت کی۔ ریپبلکن سینیٹر ٹوڈ ینگ نے کہا کہ انتظامیہ کی وضاحت میں کچھ گنجائش موجود ہے اور کانگریس اس معاملے کا جائزہ لے گی۔ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ ایران کے گرد جاری بحری اور عسکری دباو اب بھی فعال دشمنی کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا اسے مکمل ختم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف واضح ہے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی ایک نئی اور الگ فوجی مداخلت سمجھی جائے گی، نہ کہ موجودہ تنازع کا تسلسل۔ اسی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی دفاعی پوزیشن میں تبدیلیاں جاری ہیں تاکہ ایران اور اس کے اتحادی گروہوں سے لاحق خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں