تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر پانچواں میزائل حملہ بھی شروع کر دیا ہے، ایران اب تک 200سے زیادہ میزائل داغ چکا ہے، اسرائیل میں اب تک 4ہلاک اور 63زخمی ہو گئے ہیں، متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ایران نے اسرائیل پر پانچواں میزائل حملہ شروع کر دیا ہے جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم میں دھماکے ہوئے ہیں، امریکی سفارتخانے کے ارکان پناہ گاہ میں چلے گئے ہیں، تل ابیب سائرن سے گونج اٹھا ہے، شہری بنکروں میں چلے گئے ہیں۔اس سے پہلے ایران کی جانب سے اسرائیل پر چوتھا میزائل حملہ کیا گیا، یروشلم، تل ابیب اور شیرون کے علاقوں میں دھماکے ہوئے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق گشن دان میں2ایرانی میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں، ایرانی میڈیا نے دعوی کیا کہ ایرانی حملے میں 63 افراد زخمی جبکہ 4 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔چوتھے حملے میں کم از ایک میزائل اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے عین وسط میں گرا جس میں اسرائیلی جوہری تحقیق مرکز کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا گیا۔ایرانی حملے میں اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کریا کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی صحافی ایلون مزراہی نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ایرانی حملے میں تل ابیب میں واقع اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، کریا ہیڈکوارٹر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو فوجی بریفنگ لیتے رہے ہیں۔تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے جن میں عمارتوں سمیت 7 مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے 9 عمارتیں مکمل تباہ ہوگئیں اور سیکڑوں اپارٹمنٹس کو بھی نقصان پہنچا اور بجلی کا نظام مفلوج ہو گیا۔تل ابیب میں حملوں کے بعد متعدد عمارتوں کو آگ لگ لگی، دھویں کے بادل چھا گئے، مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، اسرائیل بھر میں سائرن بج اٹھے، کئی علاقوں میں بجلی بند ہوگئی، میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی شہری بنکرز میں چھپ گئے۔ایرانی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیل کی ڈیفنس منسٹری کے ہیڈ آفس کے باہر بھی دھماکا ہوا، اسرائیل میں150اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائلی ڈیفنس فورس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے۔واضح رہے کہ ایران کی جانب سے 2 اسرائیلی طیارے مار گرانے اور خاتون پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعوی بھی کیا گیا ہے، جوابی حملے کے بعد ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے، ملک بھر میں جشن کا سماں رہا، یمن، غزہ اور لیبیا میں بھی شہریوں نے جشن منایا۔خبرایجنسی کے مطابق اسرائیل کے بھی ایران پر حملے نہ تھمے، ایرانی دارالحکومت تہران ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا، تہران میں 4 خوفناک دھماکے رپورٹ ہوئے، اسرائیل کی جانب سے تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے کہ پہلے ایرانی حملے میں 100، دوسرے میں 50 اور تیسرے حملے میں بھی تقریبا 50 میزائل شامل تھے، تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے خطے میں وسیع جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔حماس رہنما عزت الرشق نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر کامیاب حملے کیے، اسرائیلی دفاعی نظام ناکام ہو گیا، اسرائیل کو اپنے بھڑکائے گئے شعلوں کا سامنا ہے، ایران کا پوری طاقت سے جواب جارحیت کے خلاف سخت ردعمل کی علامت ہے۔اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین پر ہونے والی کانفرنس منسوخ کر دی گئی۔فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے فلسطین کے دو ریاستی حل کیلئے اقوام متحدہ میں کانفرنس منعقد ہونی تھی، کانفرنس اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں 17 سے 20 جون کو طے تھی۔اسرائیلی اہلکار نے ایران کی عسکری اور جوہری تنصیبات پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے 2 اسرائیلی لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کی خبروں کو جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا۔اسرائیلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ایرانی فضاں میں ہمارے 2 جنگی طیارے مار گرائے جانے کی جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ جعلی ہیں۔واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعوی کیا تھا کہ ایران کی افواج نے اسرائیل کے2 طیارے مار گرائے ہیں۔امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کاکہنا ہے کہ امریکا کو اسرائیل کی ایک اور جنگ میں گھسیٹا نہیں جاسکتا، ایران کے نیو کلیئر پروگرام پرمذاکرات اتوار کو طے تھے، نیتن یاہو نے حملہ کر دیا۔انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے جنگ بندی کے سب سے بڑے مذاکرات کار کو مار دیا اور امریکا کی سفارتکاری کو نیچا دکھایا ہے۔امریکی سینیٹر نے کہا کہ نیتن یاہو نے ہزاروں شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج اسرائیل میں ان اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں سے ایران پر جارحیت کی جارہی ہے۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق سوم میں اسرائیلی کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جن میں اسرائیلی فوج کے اڈے اور ہتھیار بنانے والی اسرائیلی تنصیبات بھی شامل ہیں۔پاسداران نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیلی بیانات کے برعکس ایرانی میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ بے گناہوں کا خون بہائے جانے کا بدلہ لیا جارہا ہے۔پاسداران انقلاب نے ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ ایران کی سکیورٹی سرخ لکیر ہے جس پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائیگا، اسرائیل پر خیبر میزائل جلد ہی داغے جائیں گے اور دنیا حیران رہ جائے گی۔




