واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس وقت مذاکرات کی درخواست کی جب امریکا ایک بڑے فوجی حملے کی تیاری مکمل کر چکا تھا۔ ان کے مطابق مسلسل عسکری دبا کے باعث تہران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوا۔ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسی دوران ایرانی حکام نے رابطہ کیا۔ٹرمپ کے بقول، انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا، براہ کرم ایسا نہ کریں، آئیے! بات کرتے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ مزید فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم امریکا کے بنیادی مقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔انہوں نے کہا، میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ٹرمپ نے ایک روز قبل بھی کہا تھا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ کسی معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔امریکی انتظامیہ مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، اور ٹرمپ نے بدھ کے روز بھی اس مقف کو دہرایا۔دریں ثنائ۔لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کوئی بھی نئی کارروائی کی جاتی ہے تو خلیج کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس پر دوبارہ حملہ کیا تو تہران خلیج بھر میں اہم توانائی تنصیبات، آئل فیلڈز، ریفائنریوں، بجلی و پانی کے نظام، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا۔رپورٹ کے مطابق یہ پیغام ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ کے وزرائے خارجہ اور پاکستانی حکام سے رابطوں کے دوران پہنچایا۔ایران نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نئے حملوں سے باز رکھنے اور سفارتی حل کی حمایت کرنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ایران نے واضح کیا کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب پورے خطے میں دیا جائے گا۔




