امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر دیا ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے جوہری سائٹس پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے فرد ونطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد کہا ہے کہ اب یا تو امن ہو گا یا پھر ایران کے لیے سانحہ ہو گا واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران فرد ونطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا امریکہ کا مقصد ایران کی جوہری افرودگی کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا اور ایران کی تنصیبات ختم کر دی گئی ہیں ٹرمپ نے کہا ایران کو اب امن قائم کرنا چاہیے امن قائم نہ کرنے کی صورت میں مستقبل کے حملے بہت زیادہ شدید ہوں گے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی صدر ٹرمپ کو مبارکباد نیتن یاہو نے کہا کہ امریکہ نے وہ کر دکھایا جو دنیا کا کوئی ملک نہیں کر سکتا تھا امریکہ نے فرد وجوہری سائٹ حملے میں 6بنکر بسٹر بم استعمال کئے دیگر ایرانی جوہری سائٹس پر حملے میں 30ٹو ماہاک میزائل استعمال کئے دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیبات کو خالی کرا لیا گیا تھا اور نشانہ بنائے گئے سائٹس میں کوئی مواد نہیں تھا جو خراج کا باعث بنے،، اسرائیل اور ایران کی جنگ میں بالآخر امریکہ بھی کودنا پڑا گزشتہ دنوں امریکی صدر نے کہا تھا کہ دو ہفتے کیلئے اسرائیل پر حملہ کو مؤخر کیا گیا ہے تاہم گزشتہ شب امریکہ نے اچانک ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر دیا جو اس بات کی غمازی ہے کہ صدر ٹرمپ قابل اعتبار آدمی نہیں جبکہ ایران نے کہا ہے کہ فرد ونطنز کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا لہٰذا امریکہ نے جس سائٹ پر حملہ کیا ہے اس میں کوئی مواد موجود نہیں تھا ایران جو پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے چکا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی لہٰذا اب اسرائیل ایران جنگ میں امریکہ بھی شامل ہو چکا ہے اور آنے والے وقت میں یہ جنگ کیا صورتحال اختیار کرتی ہے فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ حالات سنگین تر ہو سکتے ہیں ایک طرف امریکہ اس آگ کو ٹھنڈی کرنے کی باتیں کر رہا ہے اور امریکی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے کردار ادا کرنے کی بات کی مگر دوسری جانب امریکہ جنگ کو اور ہوا دے رہا ہے عسکری ماہرین اس کو عالمی امن کے خطرہ قرار دے رہے ہیں گزشتہ روز او آئی سی اجلاس میں بھی تمام مسلمان ممالک نے ایران سے یکجہتی کا اظہار کیا اور عالمی قوتوں سے اس جنگ کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا اس وقت صہیونی ریاست مشرق وسطیٰ میں فتنہ کی صورت میں سامنے آئی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ناجائز ریاست کے خلاف مسلمان اتحاد بنا کر اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششوں کا آغاز کریں جس طرح امریکہ بھارت اسرائیل اپنی خفیہ ایجنسیوں سے کام لیکر مسلمانوں کے اہم راہنمائوں کو راستے سے ہٹاتے ہیں اسی طرح مسلمان ریاستوں کو بھی چاہیے کہ اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے صہیونی راہنمائوں کو بھی راستے سے ہٹائیں تاکہ ان کے حوصلے پست کئے جا سکیں چونکہ اس وقت امریکہ اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو گیا ہے لہٰذا ایسے میں مسلمان ممالک کو بھی ایران کا ساتھ دینا چاہیے، امریکہ کے جنگ میں کودنے کے بعد عالمی جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں اگر امریکہ نے اپنی فرعونیت نہ چھوڑی تو مشرق وسطیٰ میدان جنگ بن سکتا ہے ایران بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں وہ اپنے دفاع کا پورا پورا حق رکھتا ہے اور اپنے دشمنوں کو سبق سکھانے کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہے ہماری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ایران کی غیبی مدد فرمائے اور اس کے ہاتھوں وقت کے فرعون اپنے انجام کو پہنچ سکیں۔




