کراچی(بیورو چیف)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے رواں سال تقریباً 30 سے 40 خواتین کو مختلف ایئرپورٹس پر بیرونِ ملک روانگی سے روک دیا، جبکہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق تقریباً 2 ہزار انکوائریز اور شکایات پر کارروائی شروع کی گئی ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاکہ انسانی اسمگلنگ اور استحصال کی کوششوں کو بروقت ناکام بنایا جاسکے۔ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر میاں اجمل نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف صرف شکایات موصول ہونے پر کارروائی نہیں کرتا بلکہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر بھی مشتبہ نیٹ ورکس کی نگرانی اور کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکمت عملی کا مقصد جرائم کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنا اور متاثرہ افراد کو محفوظ بنانا ہے۔میاں اجمل کے مطابق ایک کارروائی کے دوران ایجنٹوں کے ایسے منصوبے کا انکشاف ہوا جس کے تحت پنجاب سے نوجوانوں کو کراچی لایا گیا، جہاں سے انہیں بلوچستان کے راستے لانچوں کے ذریعے ایران کے شہر چابہار منتقل کیا جانا تھا۔ منصوبے کے مطابق ایران سے زمینی راستے کے ذریعے ترکی اور پھر یونان سمیت دیگر یورپی ممالک پہنچانے کی کوشش کی جانی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی سے متعلقہ ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا، جبکہ متاثرہ افراد کو بھی شہر سے بلوچستان منتقل کیے جانے کے بعد رات کے وقت ایک مقامی ہوٹل سے بازیاب کرالیا گیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی سے مبینہ انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی گئی۔




