ایپل دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بن گئی

کیلیفورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے اینویڈیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا اعزاز دوبارہ حاصل کر لیا۔ ایپل کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 4.88ٹریلین ڈالر رہی، جبکہ اینویڈیا کے حصص میں 3.5فیصد کمی کے بعد اس کی مالیت تقریباً 4.86ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔سرمایہ کاروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق بدلتے رجحانات کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کی درجہ بندی میں یہ تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اینویڈیا تقریبا ایک سال تک دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی رہی، تاہم ایپل نے اپریل گزشتہ سال کے بعد پہلی بار دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ماہرین کے مطابق ماضی میں ایپل کو اے آئی کی دوڑ میں نسبتا پیچھے سمجھا جاتا تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کا اعتماد کمپنی کی سروسز، مضبوط ایکو سسٹم اور ہارڈویئر اپ گریڈز کے ذریعے اے آئی سے آمدن بڑھانے کی صلاحیت پر بڑھا ہے۔رواں سال ایپل نے طویل انتظار کے بعد اپنے ورچوئل اسسٹنٹ “سری” کا جدید ورژن متعارف کرایا، جس کا مقصد اے آئی کے میدان میں دیگر بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی فونز میں موجود صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر ایپل مستقبل میں مزید مثر اے آئی فیچرز متعارف کرا سکتا ہے، تاہم اسے صارفین کی پرائیویسی برقرار رکھنے کے ساتھ یہ توازن قائم کرنا ہوگا۔دوسری جانب اینویڈیا بدستور مصنوعی ذہانت کی صنعت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اس کے جدید گرافکس پروسیسرز دنیا بھر میں جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجی کا بنیادی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مارکیٹ کے رجحانات تبدیل ہونے کی صورت میں اینویڈیا دوبارہ دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بن سکتی ہے۔ادھر اے آئی سے وابستہ سرمایہ کاری کا دائرہ اب میموری چپ بنانے والی کمپنیوں تک بھی پھیل رہا ہے، جہاں مائیکرون اور جنوبی کوریا کی ایس کے ہائنکس بھی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ تاہم جولائی کے دوران مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کے رجحان میں سست روی کے باعث سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں بھی اتار چڑھا دیکھنے میں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں