لاہور(بیوروچیف) نئے مالی سال کے پہلے ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں 0.98فیصد کی ریکارڈ کی گئی جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 13.52فیصد کی ریکارڈ سطح پر ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ایک ہفتے میں 23اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا ء کی قیمتوں میں کمی جبکہ 17اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ایک ہفتے میں آلو 10.06فیصد، ٹماٹر 125.40فیصد اور پیاز 10.72فیصد، ماچس 0.96فیصد، بریڈ کی قیمتوں میں 0.47فیصد، انڈوں کی قیمتوں میں 8.32فیصد، واشنگ سوپ کی قیمتوں میں 0.63فیصد، سگریٹ کی قیمتوں میں 0.23فیصد، ایری سکس چاول کی قیمتوں میں 0.45فیصد جبکہ کھلے دودھ کی قیمتوں میں 0.49فیصد اضافہ ہوا۔چکن کی قیمتوں میں 1.97فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.21فیصد، لہسن کی قیمتوں میں 0.63فیصد، دال مونگ کی قیمتوں میں 1.29فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں 0.84فیصد، دال چنا کی قیمتوں میں 0.23فیصد، پیٹرول کی قیمتوں میں 19.77فیصد، ڈیزل کی قیمتوں میں 17.73فیصد اور چینی کی قیمتوں میں 0.21فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ایک ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.42فیصد اضافے کے ساتھ 14.13فیصد رہی۔اسی طرح 17ہزار 733روپے سے 22ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.86فیصد اضافے کے ساتھ 16.11فیصد اور 22 ہزار 889روپے سے 29ہزار 517روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.28فیصد اضافے کے ساتھ 13.66فیصد رہی۔29ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.32فیصد کمی کے ساتھ 12.77 فیصد رہی جبکہ 44ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار دو فیصد کمی کے ساتھ 11.68فیصد رہی ہے۔




