تاندلیانوالہ (نامہ نگار)وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر تاندلیانوالہ میں غیر قانو نی ایل پی جی ری فلنگ اور مبینہ اوو ر چارجنگ کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر اقصی امتیاز کا زبردست کریک ڈان، متعدد دکانوں کے خلاف کارروا ئی ، 8دکانیں سیل، 5ہزار روپے جرمانہ عائد جبکہ غیر قانونی ری فلنگ مشینیں اور دیگر سامان بھی ضبط کر لیا گیا۔ ا نتظا میہ کی کارروائی پر جہاں شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا، وہیں چند ہی گھنٹوں بعد سامنے آنیوالی اطلاعا ت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ کارروائی کے اگلے ہی روز بعض ری فلنگ دکاندا ر مبینہ طور پر انتظامیہ سے ملی بھگت کرکے دوبارہ دکا نیں کھول کر کاروبار کرنے لگے۔ اگر یہ دعوی درست ہے تو یہ انتظامی کارروائیوں کی موثریت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔280کا سرکاری ریٹ، 500روپے میں فروخت کا دعوی شہریوں کے مطابق ایل پی جی کا سرکاری نرخ 280روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن بعض دکاندار مبینہ طور پر یہی گیس 500روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ رکھی ہے اور دوسری طرف ایل پی جی کی مبینہ من مانی قیمتوں نے گھریلو صارفین کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ شہر یوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر 500روپے فی کلو ایل پی جی فروخت ہونے کی شکایات موجود ہیں تو سرکاری نرخ پر فروخت یقینی بنانے کے لیے مثر نگرانی کیوں نہیں کی جا رہی صرف دکانیں سیل کرنا کافی نہیں، مستقل نگرانی کا مطالبہ عوامی حلقوں نے اسسٹنٹ کمشنر اقصی امتیاز اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی ایل پی جی ری فلنگ اور مبینہ اوورچارجنگ کیخلاف کارروائی کو صرف ایک روزہ آپریشن تک محدود نہ رکھا جائے۔ بلکہ روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کی جائے۔




