پشاور /لاہور /لیہ /ایبٹ آباد /سکردو /حسن ابدال /مردان (نمائندگان)ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی موسلا دھاربارش ،سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچادی، جس کے باعث مختلف حادثات میں 2بچوں سمیت 13افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے،نگر میں چھلت کے علاقے بڈہ لس میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 4مزدور جاں بحق ہوگئے،لاہور میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہو گیا ۔ریسکیوکے مطابق مردان رستم کالو ڈھیری میں کمرے کی چھت گرنے سے 2بچے جاں بحق جبکہ ماں اور بیٹی شدید زخمی ہوگئیں۔ضلع خیبر میں ہونے والی موسلا دھار بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں مختلف واقعات میں 6افراد جاں بحق جبکہ کئی افراد زخمی ہوگئے جبکہ شدید بارش کے باعث لنڈی کوتل اور گردونواح میں متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں اور کچے مکانات اور 10سے زائد گھروں کی چاردیواریاں بھی منہدم ہوگئیں۔خیبر میں تیز بارش کے باعث مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں، سوار خواتین اور بچوں کو بچا لیا گیا جبکہ پولیس کے مطابق تین افراد لاپتہ ہیں۔پولیس کے مطابق علاقہ خوگہ خیل زکریا مسجد کے قریب بھی کار سیلابی ریلے کی نذر ہوئی، موٹر کار میں موجود تمام افراد کو بحفاظت نکال دیا گیا ہے۔کشمیر کی وادی نیلم کے نواحی گائوں میں کلائووڈ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی جس سے مکانات سمیت متعدد دکانیں سیلاب کی زد میں آگئیں۔مینگل نالے کے قریب متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکل بہہ گئیں، نالے میں آنے والے سیلاب سے لوگوں کے مال مویشی بھی نالے میں بہہ گئے، مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔مانسہرہ کے علاقے جبوڑی میں کلائوڈ برسٹ کے نتیجے میں متعدد ہوٹلوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دئیے۔ وادی کاغان، وادی سرن اور دیگر حساس علاقوں میں ندی نالوں اور دریائوں میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر سیاحوں کو دریائے کنہار اور دیگر آبی گزرگاہوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق نگر میں چھلت کے علاقے بڈہ لس میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 4مزدور جاں بحق ہوگئے۔ریسکیو حکام کے مطابق مزدور کام کر کے شام کو گھروں کو واپس جا رہے تھے کہ لینڈ سلائیڈنگ ہوگئی اور ملبے تلے آگئے جس کے نتیجے میں 3مزدور زخمی جبکہ 4جاں بحق ہوئے ہیں۔مزدوروں میں ایک لیہ پنجاب کا تھا جس کی شناخت شفقت اور ایک چھلت رابٹ سے تھا جس کی فدا حسین کے نام سے ہوئی، جبکہ 2مزدروں کا تعلق کوہستان سے بتایا جارہا ہے، میتوں کو کوہستان و پنجاب منتقل کیا گیا ہے۔لاہور میں موسلا دھار بارش کے دوران دو مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ سات زخمی ہوگئے، ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق موسلا دھار بارش کے دوران لاہور میں دو حادثات رپورٹ ہوئے ۔ شادباغ کھوکھر روڈ پر کرنٹ لگنے سے بائیس سال کا عدنان جاں بحق ہوگیا ۔ دوسرا واقعہ نین سکھ کے علاقے میں پیش آیا جہاں گھر کی دیوار گرنے سے سات افراد زخمی ہوگئے ۔ ریسکیو کی امدادی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا ۔ زخمیوں میں شامل ایک خاتون کے سر پر گہری چوٹ آئی جس کی حالت تشویشناک ہے ۔دوسری جانب پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے بیشتر دریائوں میں پانی کا بہا ئومعمول کے مطابق ہے تاہم دریائے چناب کے خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 25ہزار کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 17 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قادر آباد میں پانی کی آمد ایک لاکھ 46ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 27 ہزار کیوسک ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب کے مرالہ، تریموں اور پنجند، دریائے راوی کے جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، دریائے ستلج کے گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام، جبکہ دریائے سندھ کے تربیلا، کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر پانی کا بہا ئومعمول کے مطابق ہے۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان کے رودکوہیوں میں بھی پانی کی صورتحال نارمل ہے۔ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک بارشوں کے باعث پنجاب کے دریائوں میں پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ بسنتر، ڈیگ، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کی وارننگ جاری کی گئی ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کے رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔ انہوں نے دریاں کے پاٹ میں موجود شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موسم اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جبکہ دریاں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف غیر ضروری آمدورفت اور سیروتفریح سے گریز کریں۔لیہ کے موضع سمرانشیب میں دریائے سندھ کی بے رحم موجیں بے قابو ہوگئیں، پانی کے تیز بہا ئومیں دو بڑے سرکاری سکول دریا برد ہوگئے، دریائے سندھ کے کٹا ئوسے اب تک سینکڑوں ایکڑ فصلوں اور 300مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔دریائی پانی سے پانچ سے زائد بستیاں، 3 مساجد، بجلی کے کھمبے اور دوسری سرکاری املاک بھی متاثر ہوئیں۔حسن ابدال کے نواحی علاقے کوہلیہ سمیت درجنوں دیہاتوں کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا گیا کوہلیہ پل ایک بار پھر تیز سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا جس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا ہ کے سرحدی دیہات کا شہر سے رابطہ منقطع اور شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا ہ کے پہاڑی علاقوں کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کیا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا ہ میں 25 جولائی تک گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے جس کے باعث ندیاں اور نالوں میں پانی کے بہا ئومیں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔این ڈی ایم اے نے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں جبکہ اپر اور لوئر چترال اور ان کے ملحقہ علاقوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ شانگلہ کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں پانی کا بہا ئوکافی تیز ہوگیا ہے۔ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی سے شاہراہ ریشم پر پانی جمع ہونے سے سڑک تالاب کا منظر پیش کرنے لگی، جس کے باعث ٹریفک بلاک ہو گئی۔




