بار بار تاریخ میں تبدیلی،انجمن تاجران بھوآنہ بازار کا الیکشن متنازعہ ہوگیا

فیصل آباد (وقائع نگار خصوصی) چیف الیکشن کمشنر اور ساتھی ممبران کی وجہ سے انجمن تاجران بھوآنہ بازار کا الیکشن متنازعہ ہو گیا، سب سے پہلے 6 اگست’ اس کے بعد 13 اگست اور پھر دوبارہ 3 اگست کو صدر اور سیکرٹری کے چنائو کیلئے پولنگ کروانے کے اعلانات نے الیکشن لڑنے والے دونوں گروپوں اور ووٹرز کو کشمکش میں مبتلا کر دیا، یہاں پر یہ امر انتہائی اہم ہے کہ فیصل آباد کے آٹھوں بازاروں میں بھوآنہ بازار اب وہ واحد بازار تھا جس کی انجمن تاجران کے باقاعدہ الیکشن ہوتے آ رہے ہیں، انجمن تاجران بھوآنہ بازار کے موجودہ صدر محمد یحییٰ اور موجودہ جنرل سیکرٹری شیخ محمد جاوید کی مدت 28جولائی 2026ء کو ختم ہو رہی ہے، اس تنازعہ میں نئے الیکشن کیلئے عبدالعزیز صابری کو متفقہ طور پر چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا اور ان کے ساتھ شیخ عبدالوحید ببر اور میاں محمد سرور ممبران نامزد ہوئے۔ جنہوں نے کچھ عرصہ قبل انجمن تاجران بھوآنہ بازار کے صدر اور سیکرٹری کے چنائو کیلئے 6 اگست 2026ء کو الیکشن کروانے کی تاریخ مقرر کی، لیکن دونوں گروپوں (محمد یحییٰ اور شیخ بلال) کی طرف سے اعتراضات دائر کیا گیا کہ 6اگست کو شہدائے کربلا کا چہلم ہے اور اس تاریخ کو الیکشن نہ کروایا جائے اس بناء پر چیف الیکشن کمشنر نے اپنے دونوں ممبران کی مشاورت سے 13 اگست کی تاریخ مقرر کر دی اور کہا کہ 13اگست کو انجمن تاجران بھوآنہ بازار کے صدر اور سیکرٹری کے چنائو کیلئے 222 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے مگر اس کے بعد محمد یحییٰ گروپ کے اعتراض اور احتجاج کرنے پر چیف الیکشن کمشنر اور دونوں ممبران نے الیکشن کی تاریخ 3 اگست مقرر کر دی جس پر شیخ بلال الٰہی نے احتجاج کیا اور کہا کہ انہیں اعتماد میں لیے بغیر ہی 3اگست کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے جسے وہ نہیں مانتے لہٰذا صدارت کے تینوں امیدواروں کی مشاورت سے 13اگست کو ہی پولنگ کروائی جائے تاہم محمد یحییٰ گروپ اس بات پر متفق نہیں ہے اور وہ بضد ہے کہ 3اگست کو ہی الیکشن ہونا چاہیے۔ ان حالات میں انجمن تاجران بھوآنہ بازار کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد جاوید بھی میدان میں آ گئے ہیں جنہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے نام تحریری درخواست دی ہے، جس میں کہا ہے کہ وہ 28جولائی 2022ء کو 180 ووٹ لیکر جنرل سیکرٹری منتخب ہوا، ان کے عہدہ کی مدت 28جولائی 2026ء کو ختم ہونی ہے، اس سے پہلے کسی طرح بھی نئے الیکشن کروانے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا میرا موقف سنے بغیر اور موجودہ کابینہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے الیکشن نہیں کروایا جا سکتا، اسی لئے 3 اگست کی متنازعہ تاریخ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ انجمن تاجران بھوآنہ بازار کے موجودہ صدر محمد یحییٰ دوبارہ صدارت کے امیدوار کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں ان کے مدمقابل شیخ بلال الٰہی صدر کے امیدوار ہیں، شیخ بلال الٰہی کے ساتھ میاں رضوان پپو جنرل سیکرٹری کے طور پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ سپریم انجمن تاجران (امین بٹ گروپ) کے سرپرست اعلیٰ ملک محمد افضل شیخ بلال الٰہی گروپ کے ساتھ ہیں اور وہ شیخ بلال الٰہی گروپ کے جیتنے کے بعد انجمن تاجران بھوآنہ بازار کے چیئرمین بننے کے خواہاں ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کے سرکردہ تاجر لیڈر بھوآنہ بازار کی فضاء کو پُرامن رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور وہ چیف الیکشن کمشنر عبدالعزیز صابری کے ساتھ مشاورت کر کے انجمن تاجران بھوآنہ بازار کے الیکشن کے انعقاد کو پُرامن بنانے کے لیے متفقہ لائحہ عمل سامنے لائیں تاکہ بھوآنہ بازار کے دکاندار اس کشمکش سے باہر نکلیں اور وہ امن وسکون کے ساتھ اپنا کاروبار کریں۔ الیکشن کمشنر دونوں گروپوں (محمد یحییٰ اور شیخ بلال الٰہی) کی مشاورت اور شہر کے سرکردہ تاجر لیڈروں کی رہنمائی میں متفقہ طور پر الیکشن کی نئی تاریخ کا اعلان کریں، جو الیکشن جیت جائے اسے صدارت اور جنرل سیکرٹری کا منصب سونپ دیا جائے۔ الیکشن ہارنے والے اپنی شکست کو کھلے دل سے قبول کریں تاکہ دیگر بازاروں’ مارکیٹوں کی طرح بھوآنہ بازار میں بھی انجمن تاجران گروپ بندی کا شکار نہ ہو، بازار کی ایک ہی منتخب تاجر تنظیم ہو جو اپنی مقررہ مدت تک اپنے فرائض سرانجام دے’ دکانداروں کے مسائل حل کرے’ بازار کی خوبصورتی اور بہتری کیلئے اقدامات کرے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح متنازعہ رہا تو پھر انجمن تاجران بھوآنہ بازار بھی گروپ بندی کا شکار ہو جائے گی۔ وہاں پر ایک سے زائد تاجر تنظیمیں بن جائیں گی۔ جس کا دکانداروں کو نقصان ہی نقصان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں