اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنی پارٹی کو ہدایت کردی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے سوا تمام اسمبلیوں اور منتخب اداروں سے فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔اڈیالہ جیل راولپنڈی سے جہاں وہ قید ہیں انہوں نے اپنے وکیل کی وساطت سے اپنی پارٹی کی اعلی قیادت کو یہ ہدایت جاری کی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے اعلیٰ ترین ذرائع نے گزشتہ روز خود کو ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ عمران نے صوبہ خیبرپختونخوا میں اپنی پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے تاہم انہیں اور ان کے ارکان صوبائی اسمبلی کو استعفیٰ دینے سے استثنیٰ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے تحریک انصاف کے ارکان اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں وہاں انہوں نے اپنے طرز عمل سے موجودہ حکمرانوں کو مستحکم کیا ہے یہ لوگ مجھے کوئی آسائش دلانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور اس امر کا سرے سے کوئی امکان نہیں کہ کسی بھی حالت میں تحریک انصاف کے بانی کو رعایت ملے جو 9مئی کے مقدمات میں ماخوذ ہونے کی پاداش میں پابند سلاسل ہے۔تاہم پارٹی کے ایک اور قریبی اور بااثر ذریعے نے اس بات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان نے مستعفی ہونے کی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مستعفی ہونے کے بارے میں پیغام نے تحریک انصاف کی صفوں میں شگاف ڈال دیا ہے قومی اسمبلی کے 79آزاد ارکان جن کی غالب اکثریت اپنے بانی کے پیغام کو نظر انداز کرنے پر اصرار کر رہی ہے اور اس کے برعکس مشورہ دے رہی ہے کہ تحریک انصاف سے وابستہ آزاد ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئیں اور کمیٹیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں کے بارے میں فیصلہ عمران خان نے کیا تھا جس نے اس بارے میں کوئی نئی ہدایت جاری نہیں کی۔قیادت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنی جدوجہد سے جو گنجائش پیدا کی ہے اسمبلیوں سے استعفیٰ اسے بھی ختم کر دیں گے۔




