بجلی کی ترسیل کے بوسیدہ نظام کو درست کرنے کا مطالبہ

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی سیکرٹری برائے پٹرولیم رانا زاہد توصیف نے گھنٹہ گھر سے ملحق آٹھ بازاروں میں بجلی کی ترسیل کے بوسیدہ نظام، بے ہنگم تاروں کے جال کی درستگی کا مطالبہ کیا ہے اور یارن مارکیٹ میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجہ میں ایک غریب محنت کش کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند سال قبل بھی شارٹ سرکٹ کے باعث ہی ایشیا کی سب سے بڑی سوتر منڈی میں سات افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ اسی ضمن میں فیسکو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی مسلسل خاموشی ناقابل فہم اور باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب اور مقامی ضلعی انتظامیہ کے بلند وبانگ دعووں کے باوجود ملک کا تیسرا بڑا شہر “مسائلستان” بن چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور کارپوریشن کی کارکردگی صرف آٹھ بازاروں سے تجاوزات کے خاتمہ تک محدود ہے۔ جبکہ دوسری طرف سڑکیں اور پارک کھنڈرات کا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ شہر کا سیوریج سسٹم بگڑ چکا ہے۔ کئی سال سے پارکنگ پلازے نہ بنائے جا سکے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اربوں کا ریونیو دینے والے شہر کا کوئی بھی والی وارث نہیں ہے۔ سوتر منڈی میں آتشزدگی کے دوسرے افسوسناک واقعہ کے بعد چیف ایگزیکٹو فیسکو کو چاہیے کہ آٹھ بازاروں میں تاروں کا سسٹم انڈر گرانڈ کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ تاکہ آئندہ سے سوتر منڈی یا کسی دوسرے بازار میں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں