اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بجٹ کی منظوری ایک باقاعدہ پارلیمانی عمل کے تحت ہوتی ہے جس میں قومی اسمبلی، سینیٹ، متعلقہ قائمہ کمیٹیاں اور وزارت خزانہ اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کرتے ہیں اور اس دوران تمام تجاویز کو وزیر خزانہ پڑھتے ہیں جس کے بعد بجٹ دستاویزات کو مزید غور و خوض کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خزانہ کمیٹیوں کے علاوہ منصوبہ بندی سے متعلق کمیٹیوں کو بھی بھجوا دیا جاتا ہے۔ان کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ارکان پارلیمنٹ، وزیر خزانہ، سیکریٹری خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام اور دیگر متعلقہ افسران شرکت کرتے ہیں۔ اجلاسوں کے دوران بجٹ میں شامل ٹیکس اقدامات، ترقیاتی منصوبوں، اخراجات اور محصولات کے اہداف سمیت مختلف تجاویز پر تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔ کمیٹیاں مختلف شعبوں سے موصول ہونے والی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرتی ہیں۔ پارلیمانی شیڈول کے مطابق یہ کمیٹیاں بجٹ پیش ہونے کے بعد 10 روز کے اندر اپنی سفارشات قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ارسال کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔بجٹ تجاویز دونوں ایوانوں کی متعلقہ کمیٹیوں میں زیر غور ہوتے ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں بھی بجٹ پر عمومی بحث جاری رہتی ہے اور متعدد ارکان بجٹ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ پارلیمانی قواعد کے مطابق بجٹ پر یہ بحث 14 روز تک جاری رہتی ہے، جس کے دوران ارکان حکومتی مالیاتی پالیسیوں، ٹیکس اقدامات اور ترقیاتی ترجیحات پر اپنی آرا کا اظہار کرتے ہیں۔کمیٹیوں کی سفارشات پہلے سینیٹ اور بعد ازاں قومی اسمبلی کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ ان سفارشات کو فنانس بل کا حصہ بنایا جاتا ہے تاکہ انہیں بجٹ دستاویزات میں شامل کیا جا سکے۔بجٹ منظوری کے حتمی مرحلے میں اسپیکر قومی اسمبلی منظوری کی تاریخ کا تعین کرتے ہیں اور اسی روز وزیر خزانہ کمیٹیوں کی منظور شدہ سفارشات کو فنانس بل میں شامل کرکے بجٹ کو شق وار قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہیں اور ایوان سے اس کی منظوری حاصل کی جاتی ہے۔آئین کے مطابق وفاقی بجٹ کی حتمی منظوری صرف قومی اسمبلی سے لی جاتی ہے جبکہ سینیٹ کی سفارشات مشاورتی حیثیت رکھتی ہیں اور بجٹ کی قانونی منظوری کے لیے سینیٹ کی منظوری لازمی نہیں ہوتی۔قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد فنانس بل قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور نئے مالی سال کے آغاز پر بجٹ میں شامل ٹیکس اور مالیاتی اقدامات نافذ العمل ہو جاتے ہیں۔




