وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان گرینڈ جرگے سے خطاب کیا، جس کے دوران واضح کیا گیا کہ بیش بہا مدنی وسائل سے مالامال بلوچستان قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں سے قبائلی نظام اور دیگر وجوہ کے باعث کسی نہ کسی درجے میں اضطراب اور عدم اطمینان کی کیفیت سے دوچار ہے، وزیراعظم نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں بلوچستان میں معاشی یا سماجی ناانصافی نہیں ہو سکتی جبکہ مسائل کو اجتماعی طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ بھی کیا جس کے دوران آپریشن بنیان مرصوص میں افواج پاکستان کی شاندار کارکردگی کو سراہا، انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کی مہم تیز کر دی ہے، پاکستانی قوم بھارت کے تمام مذموم عزائم اور اس کی پراکسی فتنہ الہندوستان کو شکست دے گی، وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جو باتیں کیں وہ حقیقت ہے، بھارت کی پراکسی جنگ اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، یہ ہماری قوم’ ترقی اور امن کیخلاف کھلی دہشت گردی ہے، حکومت واضح کر چکی ہے کہ جو بھی دشمن ہماری خودمختاری کو چیلنج کرے گا اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا، بہادر بلوچ عوام سمیت پوری قوم دشمن کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنانے کیلئے متحد ہے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بھارت کی سرپرستی میں بلوچستان میں پراکسی وار شدت اختیار کر چکی ہے، حکومت’ فوج اور ادارے مل کر دہشت گردی کو انجام تک پہنچائیں گے اور دہشت گردوں کے سہولت کار اور مددگار بھی قانونی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے، یہ باتیں عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے، بلوچستان میں دہشت گردی اور بے چینی کا خاتمہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہماری سیاسی قوتیں اور عسکری قیادت نے بلوچستان میں درپیش مسائل ومشکلات کے حل پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے بلوچستان میں عوامی فلاح وبہبود کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے ملک کے ایک ہزار ارب کے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا ایک چوتھائی یعنی اڑھائی سو ارب روپے مختص کرنے کا اعلان قابل قدر ہے، اس اقدام کے ثمرات بلوچستان کے عوام تک پہنچیں گے تو ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہونگی، اس بات پر مکمل توجہ دینی چاہیے کہ صوبے کے وسائل اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ حصہ دیا جائے، لاپتہ افراد کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے اور بلوچستان کے تمام مسائل کو اجتماعی طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، اس جرگے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ بلوچستان کے تمام بڑے قبائلی سرداروں نے اجتماعی طور پر حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان اور صوبے کی سلامتی’ ترقی اور استحکام کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا، ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کا قلع قمع کر کے امن وامان کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور ناراض بلوچوں کو بھی قومی دھارے میں شامل کر کے قومی یکجہتی کی فضاء کو فروغ دیا جائے۔




