بڑی عمر کی اداکارائوں کیلئے کردار کی دنیا محدود کیوں…؟

لاہور (شوبز نیوز) پاکستانی ٹیلی وژن ڈراموں میں بڑی عمر کی اداکارائوں کے لیے کرداروں کی دنیا طویل عرصے تک محدود رہی ہے۔ کبھی وہ مثالی اور قربانی دینے والی مائیں بنیں تو کبھی سخت گیر اور سازشی ساسوں کے کردار تک محدود رہیں۔ تاہم حالیہ ڈراموں میں یہ روایت آہستہ آہستہ بدلتی دکھائی دے رہی ہے جہاں 40 اور 50 سال سے زائد عمر کی اداکارائوں کو ایسے کردار مل رہے ہیں جن میں جذباتی پیچیدگی، ماضی، کمزوریاں، خواہشات اور اپنی الگ کہانیاں موجود ہیں۔صبا حمید نور جہاں میں اپنے گھر کے اندر کی سیاست کو نہایت چالاکی سے اپنے حق میں استعمال کرنے والی بااثر خاتون کا کردار ادا کرتی ہیں جبکہ سکینہ سموں قرض جاں میں ایک ایسی خاتون کے روپ میں نظر آتی ہیں ثانیہ سعید آپ کی عزت میں اپنے بھٹکے ہوئے بیٹے پر مضبوط گرفت برقرار رکھنے کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔حنا خواجہ بیات ایک اور پاکیزہ میں حقہ پیتے ہوئے تلخ مگر دانائی بھری باتیں کرنے والی خاتون کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ارجمند رحیم شیر میں تنہائی اور ماضی کی ناکام محبت کے ساتھ زندگی گزارنے والی خاتون کا کردار نبھاتی ہیں جبکہ سویرا ندیم بسمِل میں اپنے بے وفا شوہر کا سامنا کرتی ہیں۔ تن من نیلو نیل میں نادیہ افغان ایک ایسی دل شکستہ خاتون کا کردار ادا کرتی ہیں جو اپنے شوہر کی برسوں کی خاموشی اور جذباتی فاصلے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔اسی طرح تزئین حسین قرض جاں میں ایک تابعدار بہو کا کردار ادا کرتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں