تاجر اتحاد، وقت کی اہم ضرورت

ماضی کا لائلپور اور موجودہ وقت کا فیصل آباد پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی شہر ہے، اس بناء پر اسے مانچسٹر آف پاکستان بھی کہا جاتا ہے، زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ فیصل آباد کی تاجر تنظیموں کا اتحاد واتفاق مثالی ہوا کرتا تھا جس کی بدولت ہر حکمران اور ضلعی انتظامیہ کے ارباب اختیار تاجر لیڈروں کے مرہون منت ہوا کرتے تھے، کسی بھی معاملے میں تاجر قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا، شہر کی ایک منتخب تاجر تنظیم ہوا کرتی تھی، جس کی قیادت جو فیصلہ کرتی، شہر بھر کے تاجر اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا کرتے تھے، یہ تاجر اتحاد کا کمال تھا کہ وہ ہر جگہ چھائے نظر آتے اور ان کی ایک کال پر فیصل آباد کے 8بازاروں اور ملحقہ مارکیٹوں میں شٹرڈائون ہڑتال ہو جاتی تھی جو حکومت وقت کو اپنے فیصلے واپس لینے پر مجبور کر دیتی تھی، ان تمام باتوں کا راقم چشم دیدگواہ بھی ہے جس نے اپنی آنکھوں سے فیصل آباد کے تاجروں کا مثالی دیکھا اور بعدازاں اس اتحاد کو پارہ پارہ ہوتے بھی دیکھا، اب فیصل آباد سٹی کی سطح پر چار تنظیمیں متحرک نظر آتی ہیں جبکہ شہر بھر کے مختلف علاقوں میں ہر گلی’ بازار کی ایک سے زائد تنظیمیں بن چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جو الیکشن ہار جائے وہ اپنی الگ سے تنظیم بنا لیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک کے تیسرے بڑے شہر اور اہم ترین صنعتی وتجارتی شہر میں تاجر اتحاد کا شیرازہ بکھر چکا ہے، حکومت وقت اور ضلعی انتظامیہ اس کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے، حکومت کسی بھی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر اپنی من مرضی کے فیصلے کرتی ہے اور تاجروں کی طرف سے اس پر موثر احتجاج نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ان کا متحد نہ ہونا ہے، فیصل آباد کے تاجر مختلف حصوں میں بٹ چکے ہیں اور اسے عہدوں سے چمٹے رہنے کی خواہش کہیے یا کچھ اور… وہ متحد نہیں ہو پا رہے، فیصل آباد کی تنظیموں کا جائزہ لیا جائے تو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد میں اس حد تک گروپ بندی نظر نہیں آتی کہ الیکشن ہارنے والے اپنی الگ تنظیم بنا لیں، یہ بات خوش آئند ہے کہ ان دونوں جگہوں پر انتخابی عمل نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام پاتا ہے اور الیکشن جیتنے والوں کی طرح الیکشن ہارنے والے بھی انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں، فیصل آباد میں تاجروں کے علاوہ صحافیوں نے بھی مختلف تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں جس کے باعث ان کی قوت بکھر کر رہ گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد میں صحافی کالونی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو رہا، بات تاجر تنظیموں کی ہو رہی تھی تو اب یہ صورتحال پیدا ہو چکی ہے کہ ہر گلی’ بازار میں ایک سے زائد تاجر تنظیمیں بن چکی ہیں اور جو الیکشن ہار جائے وہ الگ سے اپنی تنظیم بنا لیتا ہے، فیصل آباد سٹی’ بازاروں’ مارکیٹوں میں تاجروں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد نہ ہونا ان کی قوت کو منتشر کر چکا ہے، سیانے لوگوں نے کیا خوب کہا ہے کہ کسی بھی جگہ اتحاد واتفاق پیدا ہو جائے تو وہ کامیابی کی نوید بن جاتا ہے، ایک ہی تاجر تنظیم سے چار تنظیمیں بن جانا اور گلی محلوں کی سطح پر بھی دکانداروں کی ایک سے زائد تنظیمیں نظر آنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ فیصل آباد کے تاجر مختلف گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، انجمن تاجران سٹی (رجسٹرڈ) فیصل آباد ایک وقت میں متحد تھی، اس کے صدر شاہد رزاق سکا کی مدت مکمل ہوئی تو انہیں الیکشن کروا دینے چاہیے تھے، اس موقع پر میاں عبدالمنان الیکشن کروانے کیلئے آئے اور انہوں نے نئی تنظیم کی داغ بیل ڈال دی۔ جامع گلی نمبر تین کے مسلسل ساتویں مرتبہ صدر منتخب ہونیوالے بابر اسلام نے اس حوالے سے جو باتیں کیں، میں ان سے سو فیصد متفق ہوں اور تاجر اتحاد کیلئے ان باتوں پر عملدرآمد کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب کلاتھ بورڈ فیصل آباد کے دکانداروں میں مثالی اتحاد رہا اور یہاں ہر دو سال بعد ووٹ کے ذریعے قیادت کا انتخاب کیا جاتا تھا یہ وہ لوگ تھے جو خدمت کے جذبہ سے سرشار تھے، ان کے ساتھ ہول سیل کی 25مارکیٹس کے دکانداران ہوتے تھے اور یہ لوگ تاجروں کے مفاد کیلئے کوشاں رہتے تھے اور انہیں درپیش مسائل ومشکلات کے ترجیحی بنیادوں پر حل کیلئے موثر ترین حکمت عملی کے تحت ٹھوس اقدامات اٹھائے جاتے تھے، یہاں پر آخری الیکشن ایسا ہوا کہ جس نے کپڑے کے تاجروں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کر دیا، جو ہارا اس کے عہدہ نہ چھوڑنے سے ایک اور کلاتھ بورڈ بن گیا، چاہیے تو یہ تھا کہ الیکشن جیتنے اور ہارنے والے جمہوری اقدار کا احترام کرتے، اب انہیں یہ کام کرنا چاہیے کہ کپڑے کے تاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے کریں’ ہر کوئی اپنی ضد اور انا کو چھوڑ دے اور ایسا الیکشن کروائیں جسے ہر کوئی تسلیم کرے اور ایک بار پھر کلاتھ بورڈ فیصل آباد پہلے کی طرح متحد نظر آئے، جامع گلی نمبر تین کے مسلسل ساتویں بار صدر منتخب ہونے والے بابر اسلام کا یہ کہنا بھی دعوت فکر دے رہا ہے کہ انجمن تاجران سٹی فیصل آباد کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جا چکا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ فیصل آباد شہر کی سطح پر تاجروں کی ایک متحدہ تنظیم ہو، تمام تاجروں کو گروپ بندیاں ختم کر کے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہیے، حالات وواقعات سے محسوس ہوتا ہے کہ تاجروں کو متحد کرنے میں فیصل آباد کلاتھ بورڈ بارش کی پہلی کرن ثابت ہو گا اور انشاء اﷲ فیصل آباد کلاتھ بورڈ جلد ایک چھتری تلے ہو گا، فیصل آباد میں 8بازاروں’ چند مارکیٹس اور گول بازاروں میں باقاعدگی سے الیکشن ہوتے ہیں اور جو لوگ خود الیکشن نہ کروائیں ان کو چند مارکیٹس میں الیکشن کی زیادہ فکر ہوتی ہے، اس طرح کا طرزعمل تاجروں کے اتحاد میں رکاوٹ بنتا ہے، 26اپریل کو ہڑتال کی کال پر بھی تاجر مختلف گروپوں میں بکھرے نظر آئے، یہ بات تاجر لیڈروں کے بہترین مفاد میں ہے کہ وہ فیصل آباد شہر’ 8بازاروں’ ملحقہ مارکیٹس اور دیگر کاروباری مراکز پر تاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی ترغیب دیں، اس سلسلے میں تمام تاجر رہنما متحرک ہوں اور ایک دوسرے کو ساتھ لیکر چلیں، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ گروپ بندیوں سے تاجروں کی قوت منتشر ہوئی، کسی بھی تنظیم میں اتحاد اس کی کامیابی نوید بن جاتا ہے اور تاجر رہنمائوں کو کامیابی وکامرانی کیلئے متحد ہونا چاہیے، بلاشبہ! تاجر اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں