بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے امریکا اور یورپی ممالک کی تنقید مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جدید صنعتوں پر مبنی اپنی معاشی حکمت عملی جاری رکھے گا اور اس میں کسی بڑی تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتاصدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقاتوں اور یورپی یونین کے ساتھ آئندہ تجارتی مذاکرات سے قبل بیجنگ نے اپنی معاشی پالیسی کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی اعلی قیادت نے حالیہ اجلاس میں بھی اسی پالیسی کے تسلسل کا اشارہ دیا۔چین کی وزارت تجارت نے ایک پالیسی دستاویز میں مغربی ممالک کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ چین میں صنعتی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ایسی تنقید حقائق کے بجائے سیاسی مقاصد پر مبنی ہے۔ادھر کمیونسٹ پارٹی کے نظریاتی جریدے نے بھی ملک میں نسبتاً کم گھریلو کھپت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی ماڈل نے چین کو تیز رفتار معاشی ترقی دلانے میں اہم کردار ادا کیا، اگرچہ مستقبل میں کھپت بڑھانے کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا گیا۔معاشی ماہرین کے مطابق چین کا حالیہ موقف اس بات کا اشارہ ہے کہ بیجنگ مغربی دبائو کے باوجود اپنی معاشی حکمت عملی تبدیل کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تجارتی تنازعات حل کرنا چاہتا ہے۔امریکا اور یورپی یونین کا موقف ہے کہ چینی سبسڈیز اور سستی برآمدات عالمی منڈی میں غیر منصفانہ مقابلے کو فروغ دیتی ہیں، جبکہ چین کا کہنا ہے کہ اس کی صنعتی اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نہ صرف ملکی ترقی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔




