ملک میں تعلیم یافتہ نوجوان نسل کی بہتری کیلئے حکومت عملی اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔ اس مقصد کی خاطر جدید فنی علوم سے آراستہ کرنے کے لیے طالب علموں کیلئے تعلیم کے راستے استوار کرنا خوش آئند ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد آئی ٹی پارک کا نام ”دانش آئی ٹی پارک” رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں لاکھوں نوجوانوں کو ہنر سیکھنے کا موقع ملے گا۔ نیشنل ٹیکنالوجی پارک جدت کے فروغ اور ملک کی ترقی وخوشحالی میں سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس طرز کے درجنوں اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں آئی ٹی پارکس ملک کے چاروں صوبوں میں قائم ہونگے، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے زراعت’ صنعت’ مینوفیکچرنگ’ معدنیات اور دیگر شعبوں میں جدید علوم سے استفادہ کیا جا سکے گا۔ یہ جدید آئی ٹی پارک انکیوبیشن سینٹرز’ انوویشن’ اسٹارٹ ایس’ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار’ صنعتوں اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے مواقع فراہم کرے گا۔ اس سے ملک کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوان مرد وخواتین کو ہنر سیکھنے اور بااختیار بننے کا موقع ملے گا جبکہ یہی مہارتیں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے میں مدد دیں گی، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے زراعت’ صنعت’ مینوفیکچرنگ’ معدنیات اور دیگر شعبوں میں جدید علوم سے استفادہ کیا جا سکے گا۔ ملک کے نوجوان جلد ازجلد اس سے مستفید ہوں اور پاکستان ترقی کی جانب آگے بڑھے۔ آئی ٹی پارک کی اہمیت صرف عمارت یا تعمیراتی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں جدت’ انکیوبیشن سینٹرز’ ہنر کی ترقی’ فنی تربیت اور کاروباری افراد کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین سے سیکھنے کے مواقع میسر آئیں۔ یہ تمام مراکز ان تمام افراد کے لیے مہارتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے، جو سیکھنے اور عملی میدان میں آگے بڑھنے کے خواہش مند ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عمارت کو شفاف طریقہ کار کے تحت چلانے کے لیے آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں کام کرنے والی ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو مدعو کیا جائے ان میں سے بہترین خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کو موزوں ترین شرائط پر عمارت حوالے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کے تحت حکومت پاکستان کا روزمرہ آپریشنز سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ماہرین اور اساتذہ اس مرکز کو دنیا میں رائج معروف طریقہ کار کے مطابق چلائیں گے۔ دانش آئی ٹی پارک ملک کا پہلا ایسا آئی ٹی پارک ہو گا جسے حکومت پاکستان دوسرے صوبوں کے علاوہ آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان تک بھی وسعت دے گی۔ یہ ادارے انتہائی غربت کے ماحول میں رہنے والے بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کر رہے ہیں اور پنجاب کے علاوہ آزاد کشمیر’ گلگت’ بلتستان’ سندھ’ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی دانش اسکول تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ دانش اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں بچے اپنی قابلیت اور ذہانت کی بنیاد پر آج ڈاکٹرز’ انجینئرز’ سائنسدان اور اساتذہ بن چکے ہیں جبکہ بعض دنیا کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پاکستان کے ہسپتالوں میں دکھی انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دانش یونیورسٹی بھی تیزی سے قائم کی جا رہی ہے۔ اسی وژن کے تحت اسلام آباد آئی ٹی پارک کو ”دانش آئی ٹی پارک” کا نام دیا گیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ انہیں جدید تعلیم’ فنی مہارت’ روزگار اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا محض حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے اعلان کو ایک مثبت سمت قرار قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس پر کتنا موثر انداز میں عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ کاری ہے جس کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔




