ٹوکیو (مانیٹرنگ ڈیسک)جاپان نے اپنے مقبول بزنس منیجر ویزے کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے کم از کم سرمایہ کاری کی شرط 6 گنا بڑھا دی ہے، جس کے بعد اس ویزے کے لیے درخواستوں میں حیران کن طور پر 96 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔بزنس مینجر ویزے کو طویل عرصے سے جاپان میں رہائش حاصل کرنے کے نسبتا آسان راستے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ماضی میں صرف 50 لاکھ ین (تقریبا 33 ہزار امریکی ڈالرز)کی سرمایہ کاری کے ذریعے غیر ملکی شہری جاپان میں کاروبار قائم کر کے رہائش کا حق حاصل کر سکتے تھے، جس کے باعث خصوصا چین سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی تھیں۔جاپانی حکومت نے اکتوبر 2025 سے اس ویزے کے لیے کم از کم سرمایہ کاری کی شرط بڑھا کر 3 کروڑ ین (تقریبا 2 لاکھ امریکی ڈالرز)کر دی ۔اس کے علاوہ درخواست گزاروں کے لیے کئی نئی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں، جن میں کم از کم ایک جاپانی شہری کو کل وقتی ملازمت فراہم کرنا، 3 سالہ انتظامی تجربہ یا متعلقہ شعبے میں ماسٹر ڈگری، جاپانی زبان میں JLPT N2 سطح کی مہارت، تصدیق شدہ کاروباری منصوبہ اور باقاعدہ دفتر کا قیام شامل ہیں۔نئے قوانین کے نفاذ کے بعد بزنس منیجر ویزے کے لیے ماہانہ درخواستوں کی تعداد اوسطا 1700 سے کم ہو کر تقریبا 70 رہ گئی ہے، جو 96 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔جاپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی کی سربراہ کیمی اونوڈا نے اس تبدیلی کو حکومتی پالیسی کا مطلوبہ نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد اس راستے کو بند کرنا تھا جو حقیقی کاروباری سرگرمیوں کے بجائے جاپانی رہائش حاصل کرنے کے شارٹ کٹ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔حکومتی پالیسی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ نئے قوانین سے صرف سنجیدہ اور بہتر سرمایہ رکھنے والے کاروباری افراد جاپان کا رخ کریں گے، جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا، تاہم ناقدین کا مقف ہے کہ ان سخت شرائط نے چھوٹے پیمانے کے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور نئے کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے جاپان کے دروازے تقریبا بند کر دیے ہیں۔ماہرین کے مطابق جاپان کی نئی ویزا پالیسی ناصرف غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحانات کو متاثر کرے گی بلکہ ایشیا کے ان ہزاروں کاروباری افراد کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے جو جاپان کو کاروبار اور مستقل رہائش کے لیے ایک پرکشش منزل سمجھتے تھے۔




