وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ جرائم کی شرح میں اضافہ شرمناک’ سُستی کی گنجائش نہیں’ اب ڈیلیور کر کے دکھانا ہو گا، پچھلے دور میں سیاسی وابستگیوں سے تعیناتیاں ہوتی تھیں اب سیاسی مداخلت صفر ہے’ گزشتہ روز ہنگامی اجلاس میں وزیراعلیٰ نے جرائم کے واقعات کی ویڈیوز خود شیئر کر کے شرکاء کو دیکھ کر سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ پولیس افسروں سے حالیہ واقعات پر بازپرس کی اجلاس میں جرائم روکنے کیلئے پیشگی اقدامات پر کام کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے شیخوپورہ اور فیصل آباد میں جرائم کنٹرول نہ ہونے پر متعلقہ افسران کی بھی سرزنش کی اور آر پی او اور ڈی پی اوز کو سی سی ڈی سے بھرپور تعاون کی ہدایت کی وزیراعلیٰ نے اجلاس میں آر پی اوز اور ڈی پی اوز سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کی شرح میں اچانک اضافے کا رجحان شرمناک اور فکرانگیز ہے اتنی محنت کے بعد پنجاب کے سیف سٹی بنائے اور جرائم سے پاک کیا، اب سستی کی گنجائش نہیں، قتل’ ڈکیتی’ اغواء اور گمشدگی جیسے واقعات کا تسلسل بڑھنا قطعاً برداشت نہیں چھوٹے سے چھوٹا جرم بھی جرم ہے اسے روکنا ہو گا وزیراعلیٰ نے کہا 100 فی صد میرٹ پولیسنگ کی وجہ سے اپنے پرائے سب کی ناراضگی مول لی اب کسی پولیس افسر کو ایم پی اے یا ایم این اے کے بندہ آنے کا ڈر خوف نہیں مریم نواز نے کہا پولیس افسران کا فائنل انٹرویو خود کرتی ہوں من چاہا بجٹ دیا اسلحہ’ آلات اور گاڑیاں بھی دیں سی سی ڈی کی آنرشپ لینے کی وجہ سے میرے اہل خانہ بھی فکرمند ہوئے لیکن عوام کو تحفظ اور اسکون کا احساس دینا چاہتے ہیں امن وامان میں بہتری کیلئے جو کرنا پڑا کروں گی سختی برتنا پڑی تو سختی بھی برتیں گے منشیات کے واقعات کے اعداد وشمار دیکھ کر شرم آتی ہے سپیڈوبس کے کنڈیکٹر نے بچی کو مارا اگر قانون کا خوف ہو تو ایسے واقعات نہیں ہو سکتے پولیس کو دو سال میں مجموعی طور پر 527 ارب روپے کا بجٹ دیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اس کے باوجود پولیس کے خلاف شکایات اور جرائم میں اضافہ ہونا افسوسناک امر ہے،، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا صوبہ میں جرائم میں اضافہ کا نوٹس لیکر پنجاب بھر کے آر پی اوز اور ڈی پی اوز سے حالیہ واقعات پر بازپرس کرنا وقت کا تقاضا ہے وزیراعلیٰ نے شیخوپورہ اور فیصل آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم پر آر پی اور ڈی پی اوز پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی سی ڈی سے بھرپور تعاون کی ہدایت کی فیصل آباد جو ملک کا اہم صنعتی شہر اور کاروباری مرکز ہے اور اس شہر میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہونا باعث تشویش ہی نہیں بلکہ آر پی او اور ضلعی پولیس کے سربراہ کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن جرائم کی وارداتوں میں کمی کی خبر ملے ہر روز 80 سے 100 وارداتوں کی خبر ملتی ہے اغوائ’ ڈکیتی’ راہ زنی’ مویشی چوری’ موٹرسائیکلز اور رکشے چوری ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں مگر متعلقہ پولیس تمام تر ضروری سہولیات کے باوجود چوروں’ ڈاکوئوں’ منشیات فروشوں’ راہ زنوں اور اغواء کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سیف سٹی کی بدولت وارداتوں میں کمی کے دعوے بھی دھرے رہ گئے ڈاکو چور بے قابو اور سرعام وارداتیں کر رہے ہیں مگر شہر بھر میں نصب کیمروں کی مدد سے جرائم پیشہ عناصر کو گرفت میں نہیں لایا جا سکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آر پی او’ سی پی او سمیت دیگر پولیس افسران اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے شہر میں جرائم کم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔




