جعلی کمپنیوں کے نام پر3ارب 27کروڑ کا فراڈ

کراچی(بیوروچیف) پاکستان کسٹمز ائیر فریٹ یونٹ کراچی سے جعلی کمپنیوں کے نام پر 3 ارب 26کروڑ 90لاکھ روپے مالیت کے 71 ہزار 815 انٹرنیٹ راوٹرز کی غیرقانونی درآمدا ت کا انکشاف ہوا ہے جنکی کسٹمز کلئیرنس پی ٹی اے کے اجازت نامہ کے بغیر دی گئی ہے۔اس امر کا ا نکشا ف کلکٹر کسٹمز کراچی ایئرپورٹ سعدیہ شیراز کی جانب سے سیکریٹری انفورسمنٹ ایف بی آر کو بھیجی گئی 39صفحات پر مشتمل تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے مذکورہ درآمدا ت کے عوض ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلم سنز انٹرپرائز اور موسانی سنڈیکیٹ نامی دو مبینہ دستاویزات پر مبنی جعلی کمپنیوں کے ذریعے پی ٹی اے کے ٹائپ اپروول اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے بغیر 71815انٹرنیٹ راٹرز درآمد کیے گئے تھے۔تحقیقاتی رپورٹ میں دو جعلی و کاغذی کمپنیوں میسرز مسلم سنز انٹرپرائزز اور میسرز موسانی سنڈیکیٹ کے ذریعے اربوں روپے کے مالیاتی فراڈ، غیر قانونی درآمدات، انڈر انوائسنگ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے، دونوں کمپنیاں فرنٹ مین کے ناموں پر رجسٹرڈ تھیں جنہیں پس پردہ بااثر آپریٹرز مارکیٹ آئی ڈیز کے طور پر استعمال کررہے تھے۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ دونوں کمپنیوں کے دیئے گئے پتہ پر کوئی دفتر موجود ہی نہیں تھا، میسرز مسلم سنز انٹرپرائز کے پتے پر ایک چاول و آٹے کی دکان جبکہ موسانی سنڈیکیٹ کے دیے گئے پتے پر ایک کرائے کا رہائشی مکان پایا گیا۔اس کے علاوہ حیران کن طور پر دونوں کمپنیوں کی جانب سے مجموعی طور پر کسٹمز آن لائن سسٹم وی بوک کے یوزر آئی ڈیز سے 5715 مختلف آئی پی ایڈریس سے استعمال کیے جا رہے تھے، جن میں سے 1048 آئی پی ایڈریسز دونوں کمپنیوں میں بالکل مشترک تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں