حوثیوں کا سعودیہ پر پھر حملہ،اپنے اتحادیوں کو لگا م دو،پاکستان کا ایران کو دو ٹوک پیغام

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔ترجمان نے حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی، تاہم کہا کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ان حملوں کا مناسب جواب دیں گی۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز یمن میں حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔تازہ کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔یمن میں گزشتہ ہفتے سے جاری نئی لڑائی میں 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم مختلف فریقوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔دریں ثناء ۔اسلام آباد (بیوروچیف) غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے ایران کو ایک انتباہی پیغام پہنچایا ہے کہ وہ اپنے یمنی حوثی اتحادیوں کو کنٹرول کرے۔خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے دفاعی معاہدے کی وجہ سے ایران کو دیا گیا پاکستان کا یہ انتباہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی فوجی کردار صرف سعودی حدود کے دفاع تک محدود رہے گا۔ذرائع کے مطابق ایران کو دیا گیا پیغام واضح ہے کہ یا تو وہ حوثیوں کو لگام دے یا ایک پراکسی تنازع کو وسیع تر علاقائی سکیورٹی بحران میں تبدیل کرنے کا خطرہ مول لے۔ رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر علاقائی سفارت کار نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کو یہ پیغام پہنچایا ہے جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے رکوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔خبررساں ایجنسی نے کہا کہ ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ ریاض میں سعودی حکام نے سینیئر پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں سے ملاقات کر کے اپنے ردعمل کو مربوط بنانے پر غور کیا ہے اور تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی فوجیں یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور کسی بھی قسم کا جوابی عمل سعودی حدود سے ہی دیا جائے گا۔خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اور پاکستانی ذریعے نے کہا کہ جوابی حملوں میں شامل ہونے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کا فوجی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور سعودی سرزمین کی حفاظت تک محدود ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی مدد فراہم کر سکتی ہیں لیکن غیر ملکی سرزمین پر جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گی۔خیال رہے کہ حوثیوں نے گزشتہ روز سعودی عرب میں خمیس مشیط میں ایک ائیربیس اور قریبی شہروں میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔یہ رواں سال فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب پر ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں