اسلام آباد (عظیم صدیقی) حکمران اتحاد ایک بار پھر آزمائش میں’ 8جون تک پارلیمنٹ سے 28 ویں ترمیم منظور کرانے کی کوششیں’ پیپلزپارٹی کی طرف سے مزاحمت کا عندیہ’ 28 ویں ترمیم کا مقصد صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کرنے’ وزارت تعلیم اور صحت کے 18 ویں ترمیم کے تحت دیئے گئے حقوق واپس لینے سمیت متعدد امور زیرغور ہیں انتہائی مصدقہ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو عندیہ دیا گیا ہے کہ رواں سال کے بجٹ میں جو اہداف ٹیکس وصولیوں کا دیا گیا ہے اس میں اب تک 1000 ارب روپے کمی یعنی شارٹ فال ہے اور وفاق اس سلسلے میں انتہائی مالی مشکل میں ہے اور اس کا حل یہی سوچا جا رہا ہے کہ وفاق جو پیسے صوبوں کو دے رہا ہے اس میں کٹوتی کی جا رہی ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال نے صوبوں سے کہا ہے کہ وفاق 850 ارب ترقیاتی فنڈز صوبوں کو دے رہا ہے وہ صوبے خود برداشت کریں، صورتحال ازحد تشویشناک اور توجہ طلب ہے، نئے ٹیکسوں سے عوامی ردعمل اور صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی سے سیاسی ردعمل متوقع ہے۔ دو تین ہفتے انتہائی اہم ہیں۔




