پاکستان میں ایک بار دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے سخت تشویش پائی جاتی ہے فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے شمالی وزیرستان میں ہونیوالے واقعہ میں بھتہ نہ دینے پر خوارج نے گاڑی کو آگ لگا دی جس کی زد میں آ کر 6شہری جاں بحق ہو گئے اس واقعہ کے بعد علاقہ میں خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے فورسز دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کیلئے متحرک’ خوارجیوں کی تلاش کیلئے آپریشن شروع’ بھارت کی شہ پر ٹی ٹی پی افغانستان میں قائم اپنے محفوظ ٹھکانوں سے نکل کر پاکستان کے صوبہ KP کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کر رہے ہیں فورسز فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی سمیت کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں 2018ء میں پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو گیا تھا پاکستان کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے امن قائم ہوا افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد طالبان کے اقتدار میں آتے ہی ایک بار دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے طالبان کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے والوں کے باعث ہم آج یہ دن دیکھ رہے ہیں پاکستان نے بارہا طالبان کی عبوری حکومت سے کہا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں مگر طالبان حکومت وعدہ پر قائم نہیں رہی اور دہشت گرد سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے میں مصروف ہیں بھارت کے دہشت گرد بھی افغانستان کی سرزمین کو اپنا ٹھکانہ بنا رہے ہیں پاکستان نے افغان شہریوں کو پاکستان سے نکل جانے کا کہا مگر وہ پھر بھی یہیں بیٹھے ہیں اور دہشت گردوں کو سہولتیں فراہم کر رہے ہیں جسکی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں بھارت ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں افراتفری پھیلانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان معاشی طور پر آزاد نہ ہو سکے جبکہ امریکہ اور اسرائیل پاکستان کو جوہری طاقت سے محروم کرنا چاہتے ہیں اور طالبان اور ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف ان دونوں کاموں میں استعمال ہو رہی ہیں آج کی افغان حکومت انڈیا نواز اور پاکستان مخالف ہے پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کے پیچھے ان احسان فراموش لوگوں کا ہاتھ ہے یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ملک میں جنگ اور بدامنی کے ایام میں پاکستان میں پناہ لی ہمارے مدرسوں سکولوں میں تعلیم حاصل کی اب یہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں یہ پرلے درجے کی منافق قوم ہے اب تو ان کی منافقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے پاکستان کو دہشت گردی سے بہت نقصان پہنچا ہزاروں جانیں ملک پر فدا ہوئیں معیشت تباہ ہو گئی روزگار متاثر ہوئے غربت میں اضافہ ہوا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے پُرعزم ہیں حالات جیسے بھی ہوں قوم نے مل کر کام کرنا ہے قوم کو دوست نما دشمنوں کو پہچاننا ہو گا دہشت گردی کو ختم نہ کیا گیا تو ملکی ترقی کا عمل رُک جائے گا امن کیلئے سکیورٹی فورسز کو حکومت تمام وسائل مہیا کر رہی ہے یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی واتحاد کا ہے ملک میں طالبان کی صورت میں خوارج اور دہشت گردی سے بچانے کیلئے یک جان ہونا ہو گا خوارج ہمسایہ ملک سے آ کر پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے تاکہ دہشت گردوں’ فتنہ الہندوستان اور خوراج کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔




