لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے پاسکو سے 10لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس پر دستاویزات کے مطابق 103 ارب 75کروڑ روپے لاگت آئے گی. محکمہ خزانہ نے ایک ہی مرحلے میں اتنی بڑی مقدار میں گندم خریدنے کی تجویز پر اعتراض اٹھاتے ہوئے طلب و رسد اور موجودہ ذخائر کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔دستاویزات کے مطابق صوبائی سپلائی چین میں اس وقت 19لاکھ70ہزار میٹرک ٹن گندم پہلے ہی موجود ہے۔ محکمہ خزانہ نے پاسکو کی گندم کی عمر، معیار اور قابلِ استعمال مدت بھی واضح کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سفارش کی ہے کہ ہر مرحلے میں صرف ناگزیر مقدار ہی پاسکو سے خریدی جائے ۔ محکمہ خزانہ نے وفاقی وزارتِ غذائی تحفظ سے گندم کی قیمت اور دستیابی کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات کی بھی ہدایت کی ہے۔ منصوبے کے تحت پنجاب میں گندم 4 ہزار 150 روپے فی 40 کلو کے حساب سے خریدی جائے گی۔محکمہ خوراک کے مطابق روزانہ 5 ہزار میٹرک ٹن گندم جاری کی جائے گی، جبکہ مارچ 2027 تک تقریبا 13 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی ضرورت ہوگی۔ محکمہ خوراک نے بتایا کہ فلور ملوں کو گندم 3 ہزار 800 روپے فی 40 کلو کے حساب سے فراہم کی جائے گی۔




