حکومت کی IMFکو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنیکی یقین دہانی

اسلام آباد (بیوروچیف) حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، 2027سے بجلی کمپنیوں کی فروخت شروع ہوگی۔حکومت نے آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری کاعمل تیزکرنیکی یقین دہانی کرادی ہے جبکہ خصوصی اقتصادی زونزکی ٹیکس مراعات 2035تک ختم کرنیکا منصوبہ بھی شیئر کر دیا، ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان بھی آئی ایم ایف مشن کے سامنے پیش کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق اگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری ممکن نہ ہوئی تو بعض کمپنیوں کو ضم کرنیکی تجویز زیر غور ہے،حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کے 51 سے 100 فیصد شیئرز 2027 کے آغاز میں فروخت کیے جائیں گے جبکہ انتظامی کنٹرول بھی نجی شعبے کو منتقل کیا جائے گا۔حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ 27سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیشرفت جاری ہے جبکہ پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے معاہدے مکمل ہوچکے ہیں،دوسری جانب روز ویلٹ ہوٹل کے لیے نئے مالی مشیر کی تقرری میں تاخیر کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔دستاویزات کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ معیشت میں ریاستی کردار محدود کیا جائے گا اور آسان کاروبار فریم ورک، ٹیرف اصلاحات اور غیر ضروری پابندیاں ختم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔حکومت نے معاشی استحکام کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھانے، مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور بجلی و گیس نرخ لاگت کے مطابق رکھنے کی پالیسی جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ کمزور طبقوں کو ٹارگٹڈ امداد کے ذریعے تحفظ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔آئی ایم ایف نے کامیاب نجکاری کے لیے اقتصادی اصلاحات، شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف موثر اقدامات کو ضروری قرار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ زیادہ تر تجارتی سرکاری اداروں میں آزاد بورڈز کی تقرری مکمل کرلی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں