واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں امریکی فوج کی جانب سے ایران پر حملوں اور خطے میں امن معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں آج ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران تقریبا 2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 98.12 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اس کے مقابلے میں گزشتہ روز برینٹ کروڈ 7 فیصد کمی کے بعد تقریبا 96 ڈالر کے قریب بند ہوا تھا۔اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل آج 91.79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا، جبکہ گزشتہ روز یہ تقریبا 5 فیصد کمی کے بعد 91 ڈالر کے قریب رہا تھا۔ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اتار چڑھا امریکی فوج کی جنوبی ایران میں مبینہ دفاعی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہوا ہے، جو دنیا کی تیل و گیس سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے غیر ملکی بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریبا محدود کر دی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اسی دوران امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے لیے قطر میں مذاکرات بھی جاری ہیں، تاہم فریقین کے درمیان مکمل اتفاق رائے ابھی تک نہیں ہو سکا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق معاہدے کی زبان اور شرائط کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ کسی بھی مثبت پیش رفت کی صورت میں مارکیٹ دوبارہ نیچے آ سکتی ہے۔




