تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطی میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، امریکی افواج نے ایران کے مختلف علاقوں میں رات گئے متعدد حملے کیے۔سیریک، اہواز، چا بہار، بندر عباس اور قشم جزیرے میں دھماکے سنے گئے،قشم میں امریکی حملے میں فش پاوڈر بنانے والی فیکٹری کو نقصان پہنچا۔رپورٹس کے مطابق اہواز شہر میں شاہد بقائی کینسر اسپتال کے قریب ایک میزائل گرا، بتایا گیا ہے کہ حملے کے وقت اسپتال میں 211 مریض موجود تھے،ہسپتال کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان اور جانی نقصانات کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران میں حالیہ کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے کمانڈ مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل و ڈرون صلاحیتوں اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا، امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کرنے والی ایرانی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔حالیہ امریکی حملوں میں 7 ایرانی فوجی اور 30 شہری ہلاک جبکہ 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق اردن میں واقع الازرق ایئربیس پر امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور مستقل ریڈار سائٹ کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، کویت میں واقع علی السالم ائیربیس پر میزائل اور ڈرونز سے مشترکہ حملہ کیا ۔ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی ایم کیو 9ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ۔ علاوہ ازیں کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے 4کروز میزائلوں اور 21ڈرونز کو تباہ کردیا گیا ہے۔ دریں ثناء ۔واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور شروع کر دیا ہے۔امریکی اخبار نے یہ دعویٰ امریکی اہلکاروں کے حوالے سے کیا ہے جن کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ زمینی فوج اتار کر آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزائر پر قبضہ کر لیا جائے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کو جلد شکست دی جائے گی، ایران ملاقات چاہتا ہے، وہ معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں، ہم دیکھیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں یا نہیں۔قبل ازیں امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مجھے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں، ایران کو اپنا رویہ بہتر کرنا چاہیے۔ٹرمپ کے اس بیان کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ ہفتوں میں سفارتی اور عسکری تنائو میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔




