ابھی چند دن پہلے سید محمد مہدی معروف تجزیہ نگار کے ہاں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں مجیب الرحمان شامی، سہیل وڑائچ، سلیم بخاری اور حفیظ اللہ نیازی جیسے قابل ذکر لوگوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان میں چین کے قونصلیٹ جنرل مسٹر سن ین تھے۔ سامعین میں راقم الحروف اور صفدر علی خان چیف ایڈیٹر روزنامہ سرزمین سمیت کافی لوگ تھے اور ہمہ تن گوش تھے۔ بنیادی موضوع پچھتر سالہ پاک چین دوستی تھا۔ ہم ویسے تو بہت سارے دن مناتے ہیں اور اکثر کو رسمی طور پر منایا جاتا ہے۔ حال ہی میں میں نے پاک چین پچھتر سالہ دوستی کے بارے میں تین پروگراموں میں شرکت کی ہے۔ انتہائی خوبصورت پروگرامز۔ ایک سے ایک بڑھ کر پرجوش مقررین اور انتہائی سنجیدہ سامعین۔ تنقید ضروری ہوتی لیکن تنقید برائے تنقید کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ تاہم ان ساری باتوں کے باوجود پاک چین تعلقات کے بارے میں ناقدین آپ کو اول تو ملتے ہی نہیں ہیں اگر اکا دکا زود رنج طبیعت کا حامل مل بھی جائے تو وہ صرف اتنا ہی کہتا ہے کہ ہر ملک کے اپنے مفاد ہوتے ہیں یا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کو چائنا سے لنک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ واقعی تمام ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور یہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ سفارت کاری کی بنیاد بھی اسی فلسفے پر ہے کہ جب آپ اپنے سارے مفادات اور اہداف اپنے وسائل سے حاصل نہیں کرسکتے تو پھر آپ کو ارد گرد کے ممالک کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کی جغرافیائی لحاظ سے بڑی اہمیت ہے اور ہمارا ہمسایہ ملک ہندوستان ہمہ وقت ہمارے خلاف سازشوں کے جال بننے میں مصروف رہتا ہے اور اس نے حملے کرنے سے بھی کبھی گریز نہیں کیا ہے۔ اس وقت تک ہم دونوں ممالک کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں اور اب بھی ہمارے تعلقات میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بلوچستان کی ساری صورتحال اور پاک افغان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار بھی ہمارا دشمن ملک بھارت ہے۔ گذشتہ سال 2025ء کی جنگ نے صورتحال کو یکسر تبدیل کردیا ہے اور اس تبدیلی کے پیچھے پاک فوج کی جرات وہمت، پاکستانی قوم کا جوش وجذبہ اور پاک چائنا دوستی زندہ باد۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لنک کا جو سوال ہے جو بلاجواز اور خلاف عقل ہے۔ ایک وقت تھا ممالک اپنے توسیع پسندانہ سوچ کی تکمیل کے لئے ایسی حرکتیں کرتے تھے اور آگے سے مغل حکومت تھی جو کہ ہندوستان میں اپنی حیثیت ختم کرچکی تھی۔ آج کا دور۔۔اثر ورسوخ کا دور نہ کہ توسیع پسندی۔ مزید افواج پاکستان اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام۔ بری آنکھ دیکھنے والا سوچ کے قدم اٹھاتا ہے۔ ہندوستان اور اسرائیل کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ ہماری بظاہر کوئی دشمنی نہیں ہے ویسے بھی دوستی کی نوعیت سب سے ایک جیسی نہیں ہوتی ہے۔ بدلتی رتوں میں دوستی کے معیارات بھی بدلتے رہتے ہیں ۔ عصر حاضر میں چین ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے اور کیوں نہ ہوتا ہندوستان ہم دونوں سے خار کھاتا ہے اور ہمیں نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ ہمیں اکٹھا ہونا پڑے گا تاکہ اس کے عزائم کو خاک میں ملایا جائے۔ چین مختلف حوالوں سے بھی پوری دنیا میں کیس سٹڈی ہے اور ہمیں مختلف شعبہ جات میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمیں بہت سارے وسائل کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے اور چین نے کیسے اپنی آبادی کم کی ہے ہمارے لئے دعوت فکر۔ ہماری نوجوان نسل اور بیروزگاری۔ جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کا ذہنی دبائو کا شکار ہونا۔اتنی بڑی افرادی قوت کی مینجمنٹ یہ ہمارا سب سے بڑا معاشی اور معاشرتی مسئلہ۔ چائنا میں آئی ٹی کا انقلاب اور اس انقلاب کے نتیجے میں نوجوان نسل کے روزگار کے مواقع اور ان کی تعلیم وتربیت۔ ہماری نوجوان نسل اور حکومت کے لئے ایسی ساری صورتحال فوڈ فار تھاٹ۔ اس سے بڑھ کر سفارتکاری کے نتیجے میں چین سے غریب اور نادار طلبا کے لئے وظائف اور ایسے قابل بچوں کو چین بھیج کر ان کی سکل ڈویلپمنٹ۔ کسی بھی ملک میں اس کے کلچر کے فروغ کے لئے اقدامات بہت ضروری ہوتے ہیں اور ہم نے مجموعی طور پر اپنے کلچر کے خدوخال مزید اس لئے سنوارنا ہیں کیونکہ گلوبلائزیشن کی وجہ سے دنیا کا فیبرک ہی بدل گیا ہے اور “تو بھی بدل کسان زمانہ بدل گیا”۔ 1960ء کے بعد ہماری زراعت کی دنیا کے انداز ہی بدل گئے تھے۔ ہم نے اس وقت گہری سوچ بچار کی۔ زراعت کو روایت کی دنیا سے نکال کر جدت کی دنیا میں لایا گیا لامحالہ اس وقت کے دوست ممالک نے بھی اس سلسلے میں ہماری مدد کی اور ہمارے ملک میں سبز انقلاب۔ چار سو ہریالی ہی ہریالی۔ گنا، چاول، کپاس، پٹسن، گیہوں اور سبزیاں۔ وافر مقدار خود بھی استعمال کریں اور ایکسپورٹ کرکے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات بھی کریں۔ خام مال کے نتیجے میں ہماری ملیں ریشم کے ڈھیر بننے لگیں۔ افسوس ہم ایڈہاک ازم کی مرض میں مبتلا ہیں اور ہم نے مذکورہ صورتحال کو آگے نہ بڑھایا اور پھر ہمارے ہاں زراعت اور کسان کی موجودہ صورت حال۔زراعت کی ترقی کے حوالے سے بھی چائنا کا اب ایک نام ہے اور جدید فارمنگ۔ پچھتر سالہ دوستی کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ہمارے ہاں زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، ڈیزل کی روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی قیمتیں اور نہری پانی نہ ہونے کے برابر مزید یہ کہ مہنگی بجلی اور یوں ایک فصل پر آنے والے اخراجات۔ ناقابل برداشت۔ زیادہ تر چھوٹے کاشتکار ہیں اور ان کی آمدن اور اخراجات میں زمین آسمان کا فرق اور اوپر سے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات۔ ادھار در ادھار اور پھر بوقت برداشت فصلات کے خریداروں کا سمارٹ پلے اور فصل کا اونے پونے حساب سے خریدا جانا۔ مذکورہ پروگرام میں چینی قونصلیٹ جنرل نے اپنی گفتگو میں یہ بھی بتایا کہ چین پاکستان میں زراعت کے میدان میں بھی کام کرنا چاہتا ہے۔ خوش آئند بات۔ چین ہر سال دوسو ملین ٹن سے زائد چاول پیدا کرتا ہے یہ دنیا کا سب سے زیادہ چاول پیدا کرنے والا ملک ہے۔ گندم کی سالانہ پیداوار 135سے 140ملین ٹن کے قریب رہتی ہے جو دنیا میں سرفہرست ممالک میں شمار ہوتی ہے۔ چین دنیا کی تقریباً 50فیصد سے زائد سبزیاں پیدا کرتا ہے۔ چین کے زرعی شعبے میں جدید مشینری کے استعمال کی شرح 70فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔ چین زرعی تحقیق وترقی پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے اور ہزاروں زرعی سائنسدان نئی اقسام اور ٹیکنالوجی پر کام کررہے ہیں۔ زرعی تحقیق، بیجوں کی بہتری، سمارٹ فارمنگ اور زرعی شعبوں میں پاک چین تعاون کے نئے امکانات پیدا ہورہے ہیں۔ ہمارا کسان دن رات ایک کرتا ہے بلکہ خون پسینہ بھی ایک کرتا ہے اس کے مسائل کا حل۔ پاک چائنا تعلقات اور زراعت کے میدان میں چائنا کی مہارت، روشن خیالی اور ٹیکنالوجی کا استعمال۔ انشااللہ ہم زراعت کے روایتی طریقوں سے نکلیں گے اور جدید طرز کاشتکاری کی خو ڈالیں گے۔ مارکیٹ میکانزم کو بھی بہتر بنایا جائیگا اور یوں اس دوستی کا فائدہ ہمیں جہاں دیگر شعبہ جات میں ہورہا ہے وہاں زراعت کے میدان میں بھی ہوگا اور ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہوگی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔




